خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 131 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 131

خطبات مسرور جلد 13 131 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 فروری 2015ء پست حالت میں تھیں۔وہ اسیروں کی سی زندگی بسر کرتی تھیں۔نہ ان میں تعلیم پائی جاتی تھی۔نہ ان کا تمدن اعلیٰ درجے کا تھا۔نہ ان کی تربیت کا کوئی سامان تھا۔جیسے افریقن علاقے ہیں کہ ان کو دنیا نے الگ پھینکا ہوا تھا اور وہ صرف بیگار اور خدمت کے کام آتے تھے۔ابھی مغربی افریقہ کا ایک نمائندہ (وہاں آپ جلسے میں تقریر فرمارہے ہیں۔اس جلسے میں مغربی افریقہ کے ایک نمائندے نے تقریر بھی کی تھی۔اس کا حوالہ دیتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ ) آپ لوگوں کے سامنے پیش ہو چکے ہیں۔اس ملک کے بعض لوگ تعلیم یافتہ ہیں لیکن اندرون ملک میں کثرت سے ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو کپڑے تک نہیں پہنتے اور ننگے پھرا کرتے تھے اور ایسے وحشی لوگوں میں سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے میرے ذریعہ ہزار ہا لوگ اسلام میں داخل ہوئے۔وہاں کثرت سے عیسائیت کی تعلیم پھیل رہی تھی اور اب بھی بعض علاقوں میں عیسائیوں کا غلبہ ہے لیکن میری ہدایت کے ماتحت ان علاقوں میں ہمارے مبلغ گئے اور انہوں نے ہزاروں لوگ مشرکوں میں سے مسلمان کئے اور ہزاروں لوگ عیسائیت میں سے کھینچ کر اسلام کی طرف لے آئے۔اس کا عیسائیوں پر اس قدر اثر ہے کہ انگلستان میں پادریوں کی ایک بہت بڑی انجمن ہے جو شاہی اختیارات رکھتی ہے اور گورنمنٹ کی طرف سے عیسائیت کی تبلیغ اور اس کی نگرانی کے لئے مقرر ہے۔اس نے ایک کمیشن اس غرض کے لئے مقرر کیا تھا کہ وہ اس امر کے متعلق رپورٹ کرے کہ مغربی افریقہ میں عیسائیت کی ترقی کیوں رک گئی ہے۔اس کمیشن نے اپنی انجمن کے سامنے جور پورٹ پیش کی اس میں درجن سے زیادہ جگہ احمدیت کا ذکر آتا ہے اور لکھا ہے کہ اس جماعت نے عیسائیت کی ترقی کو روک دیا ہے۔غرض مغربی افریقہ اور امریکہ دونوں ملکوں میں حبشی قو میں کثرت سے اسلام لا رہی ہیں۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ان قوموں میں تبلیغ کا موقع عطا فرما کر مجھے ان اسیروں کا رستگار بنایا ہے اور ان کی زندگی کا معیار بلند کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔پھر فرمایا کہ اسیروں کی رستگاری کے لحاظ سے کشمیر کا واقعہ بھی اس پیشگوئی کی صداقت کا ایک زبر دست ثبوت ہے اور ہر شخص جو ان واقعات پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرے یہ تسلیم کئے بغیر را نہیں رہ سکتا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعے سے ہی کشمیریوں کی رستگاری کے سامان پیدا کئے اور ان کے دشمنوں کو شکست دی۔(ماخوذ از ” الموعود“۔انوار العلوم جلد 17 صفحہ 614-615) آپ فرماتے ہیں یہ جو پیشگوئی ہے اس کے دو بہت بڑے اور اہم حصے ہیں۔پہلا حصہ اس پیشگوئی کا یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر دی گئی تھی کہ میں