خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 129 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 129

خطبات مسرور جلد 13 129 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 فروری 2015ء میرے ہاتھ پر بیعت کی اور اس طرح خدا تعالیٰ نے مجھے تین کو چار کرنے والا بنادیا کیونکہ پہلے روحانی لحاظ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذریت میں ہم صرف تین بھائی تھے مگر پھر تین سے چار ہو گئے۔پھر اس لحاظ سے بھی میں تین کو چار کرنے والا ہوں کہ میں الہام کے چوتھے سال پیدا ہوا۔1886ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ پیشگوئی کی تھی۔(فرماتے ہیں کہ ) پھر اس لحاظ سے بھی میں تین کو چار کرنے والا ہوں کہ میں الہام کے چوتھے سال پیدا ہوا۔1886ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ پیشگوئی کی تھی اور 1889ء میں میری پیدائش ہوئی۔1886ء ایک، 1887 ء دو، 1888 ء تین اور 1889ء چار۔گویا تین کو چار کرنے والی پیشگوئی میں یہ خبر بھی دی گئی تھی کہ میری پیدائش پیشگوئی سے چوتھے سال ہوگی اور اس طرح میں تین کو چار کرنے والا ہوں گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور اس کے مطابق میری ولادت ہوئی۔(ماخوذ از ” الموعود۔انوار العلوم جلد 17 صفحہ 635 تا 637) جلال الہی کے ظہور کا موجب ہوگا“۔فرماتے ہیں کہ پانچویں خبر یہ دی گئی تھی کہ اس کا نزول جلال الہی کے ظہور کا موجب ہوگا۔یہ خبر بھی میرے زمانے میں پوری ہوئی۔چنانچہ میرے خلافت پر متمکن ہوتے ہی پہلی جنگ ہوئی اور اب دوسری جنگ شروع ہے جس سے جلال الہی کا دنیا میں ظہور ہو رہا ہے۔شاید کوئی شخص کہہ دے کہ اس وقت لاکھوں کروڑوں لوگ زندہ ہیں اگر ان لڑائیوں کو تم اپنی صداقت میں پیش کر سکتے ہو تو اس طرح ہر زندہ شخص ان کو اپنی تائید میں پیش کر سکتا ہے اور کہہ سکتا ہے کہ یہ جنگیں میری صداقت کی علامت ہیں۔اس کے متعلق میرا جواب یہ ہے کہ اگر ان لاکھوں کروڑوں لوگوں کو جو اس وقت زندہ ہیں ان جنگوں کی خبر میں دی گئی ہیں تو پھر یہ زندہ شخص کی علامت بن سکتی ہے۔اور اگر اُن کو ان لڑائیوں کی خبریں نہیں دی گئیں تو پھر جس کو ان جنگوں کی تفصیل بتائی گئی ہے اس کے متعلق جلال الہی کا یہ ظہور کہا جائے گا۔(ماخوذ از الموعود۔انوار العلوم جلد 17 صفحہ 627) وہ جلد جلد بڑھے گا“۔(فرماتے ہیں) جب میں خلیفہ ہوا اس وقت ہمارے خزانے میں صرف چودہ آنے کے پیسے تھے اور اٹھارہ ہزار کا قرض تھا۔یہاں تک کہ میں نے اپنے زمانہ خلافت میں جو پہلا اشتہار لکھا اور جس کا عنوان تھا ”کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے اس کو چھپوانے کے لئے بھی میرے پاس کوئی روپیہ نہ تھا۔اس وقت ہمارے نانا جان کے پاس کچھ چندہ تھا جو انہوں نے مسجد کے لئے لوگوں