خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 92 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 92

خطبات مسرور جلد 13 92 خطبه جمعه فرموده مورخه 06 فروری 2015ء والوں کو طاعون سے ہلاک کیا۔جب ہزاروں مثالیں اس قسم کی موجود ہیں تو ہم کہاں تک انہیں اتفاقات پر محمول کریں۔پس اپنے اندر ایسی پاک تبدیلی پیدا کرو کہ دنیا اسے محسوس کرے۔تمہاری حالت یہ ہو کہ تمہارے تقوی وطہارت تمہاری دعاؤں کی قبولیت اور تمہارے تعلق باللہ کو دیکھ کر لوگ اس طرف کھنچے چلے آدیں۔یا درکھو کہ احمدیت کی ترقی ایسے ہی لوگوں کے ذریعہ سے ہوگی اور آپ لوگ اس مقام پر یا اس کے قریب تک پہنچ جائیں گے تو پھر اگر آپ باہر بھی قدم نہ نکالیں گے بلکہ کسی پوشیدہ گوشے میں بھی جا بیٹھیں گے تو وہاں بھی لوگ آپ کے گرد جمع ہو جائیں گے۔(ماخوذ از جماعت احمد یہ دہلی کے ایڈریس کا جواب۔انوار العلوم جلد 12 صفحہ 86) اور انشاء اللہ تعالیٰ احمدیت میں داخل ہوں گے۔ایک واقعہ کا ذکر آپ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیالکوٹ میں گئے تو مولویوں نے فتویٰ دیا کہ جو اُن کے لیکچر میں جائے گا اس کا نکاح ٹوٹ جائے گا لیکن چونکہ حضرت مرزا صاحب کی کشش ایسی تھی کہ لوگوں نے اس فتوے کی بھی کوئی پرواہ نہ کی۔راستوں پر پہرے لگا دیئے گئے تاکہ لوگوں کو جانے سے روکیں۔سڑکوں پر پتھر جمع کر لئے گئے کہ جو نہ رکے گا اسے ماریں گے۔پھر جلسہ گاہ سے لوگوں کو پکڑ پکڑ کر لے جاتے تھے کہ لیکچر نہ سنیں۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ایک بیٹی صاحب تھے جو اس وقت سیالکوٹ میں سٹی انسپکٹر تھے اور پھر سپرنٹنڈنٹ پولیس بھی ہو گئے تھے۔وہاں پر امن قائم کرنے کے لئے یا نگرانی کرنے کے لئے ان کا انتظام تھا۔بہر حال فرماتے ہیں جب لوگوں نے بہت شور مچایا اور فساد کرنا چاہا تو چونکہ حضرت صاحب کی تقریر انہوں نے یعنی بی ٹی صاحب نے ، انسپکٹر پولیس نے بھی سنی تھی۔وہ حیران ہو گئے کہ اس تقریر میں حملہ تو آریوں اور عیسائیوں پر کیا گیا ہے اور جو کچھ مرزا صاحب نے کہا ہے اگر وہ مولویوں کے خیالات کے خلاف بھی ہو تو بھی اس سے اسلام پر کوئی اعتراض نہیں آتا۔اور اگر وہ باتیں سچی ہیں تو اسلام کا سچا ہونا ثابت ہوتا ہے۔پھر مسلمانوں کے فساد کرنے کی کیا وجہ ہے؟ پھر فرماتے ہیں کہ اگر چہ وہ سرکاری افسر تھا مگر وہ جلسے میں کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا کہ یہ تو یہ کہتے ہیں کہ عیسائیوں کا خدا مر گیا اس پر اے مسلمانو ! تم کیوں غصہ کرتے ہو؟ (ماخوذ از تحریک شدھی ملکانہ۔انوار العلوم جلد 7 صفحہ 192) حضرت مولوی برہان الدین صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک نہایت ہی مخلص صحابی گزرے ہیں۔ان کے بارے میں فرماتے ہیں کہ احمدیت سے پہلے وہ وہابیوں کے مشہور عالم تھے اور ان میں انہیں بڑی عزت حاصل تھی۔جب احمدی ہوئے تو باوجود اس کے کہ ان کے گزارے میں تنگی آگئی پھر بھی انہوں نے پرواہ نہ کی اور اسی غربت میں دن گزار دیئے۔بہت ہی مستغنی المزاج آدمی تھے۔انہیں