خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 93 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 93

خطبات مسر در جلد 13 93 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 فروری 2015ء دیکھ کر کوئی نہیں سمجھ سکتا تھا کہ یہ کوئی عالم ہیں بلکہ بظاہر انسان یہی سمجھتا تھا کہ یہ کوئی بہت ہی مزدور پیشہ یا تھی ہیں۔بہت ہی منکسر طبیعت کے آدمی تھے۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ مجھے ان کا ایک لطیفہ ہمیشہ یاد رہتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب سیالکوٹ تشریف لے گئے اور وہاں سخت مخالفت ہوئی تو اس کے بعد جب آپ واپس آئے تو مخالفوں کو جس جس شخص کے متعلق پتا لگا کہ یہ احمدی ہے اسے سخت تکلیفیں دینی شروع کر دیں۔مولوی برہان الدین صاحب بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ٹرین پر سوار کرا کے اسٹیشن سے واپس جا رہے تھے کہ لوگوں نے ان پر گو بر اٹھا اٹھا کر پھینکنا شروع کر دیا اور ایک نے تو گوبر آپ کے منہ میں ڈال دیا۔مگر وہ بڑی خوشی سے اس تکلیف کو برداشت کرتے گئے اور جب بھی ان پر گوبر پھینکا جاتا تو بڑے مزے سے کہتے کہ ایہہ دن کتھوں ، اے خوشیاں کتھوں“۔اور بتانے والے نے بتایا کہ ذرا بھی ان کی پیشانی پر بل نہ آتا۔غرض اس کے مختلف ورژن ہیں۔مختلف بیان ہیں۔لیکن بہر حال اصل الفاظ یہ نہ بھی ہوں تو مطلب یہی ہے کہ انہوں نے خوشی کا اظہار کیا۔ان کے ماتھے پر کوئی بل نہیں آیا اور اس کو یہ سمجھا کہ اس مخالفت کی وجہ سے جو مجھ پر ہو رہا ہے یہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔بہر حال فرماتے ہیں کہ غرض بہت ہی مخلص انسان تھے۔وہ اپنے احمدی ہونے کا موجب ایک عجیب واقعہ سنایا کرتے تھے۔احمدی گووہ کچھ عرصہ بعد میں ہوئے ہیں مگر انہوں نے دعوئی سے بہت ہی پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو شناخت کر لیا تھا۔درمیان میں کچھ وقفہ پڑ گیا۔انہوں نے ابتدا میں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر سنا تو پیدل قادیان آئے۔یہاں آ کر پتا لگا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام گورداسپور تشریف لے گئے ہیں۔شاید کسی مقدمے میں پیشی تھی یا کوئی اور وجہ تھی۔مجھے صحیح معلوم نہیں۔آپ فوراً گورداسپور پہنچے۔وہاں انہیں حضرت حافظ حامد علی صاحب مرحوم ملے۔یہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک دیرینہ خادم اور دعویٰ سے پہلے آپ کے ساتھ رہنے والے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ذیل گھر میں یا کہیں اور ٹھہرے ہوئے تھے اور جس کمرے میں آپ مقیم تھے اس کے دروازے پر چک پڑی ہوئی تھی۔مولوی برہان الدین صاحب کے دریافت کرنے پر حافظ حامد علی صاحب نے بتایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے کمرے میں کام کر رہے ہیں۔انہوں نے (مولوی برہان الدین صاحب نے ) کہا میں آپ سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں۔حافظ صاحب نے کہا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مصروفیت کی وجہ سے منع کیا ہے اور حکم دے رکھا ہے کہ آپ کو نہ بلایا جائے۔مولوی صاحب نے منتیں کیں۔کسی طرح ملاقات کروا دو۔مگر حافظ صاحب نے کہا میں کس طرح عرض کر سکتا ہوں جبکہ آپ نے ملنے سے منع کیا ہوا ہے۔لیکن آخر بہت