خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 91
خطبات مسرور جلد 13 91 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 06 فروری 2015ء دلی گیا تو مرزا حیرت انسپکٹر پولیس بن کر اس کے پاس چلا گیا۔وہ کو ٹھے پر بیٹھا ہوا تھا ( حالانکہ یہ بھی بات بالکل جھوٹ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس وقت نیچے دالان میں ، گھر کے صحن میں بیٹھے ہوئے تھے۔) مولوی عبد الکریم حضرت مسیح موعود کے بارے میں کہتا ہے کہ جب اس نے سنا کہ انسپکٹر پولیس آیا ہے تو ایسا گھبرایا کہ سیڑھیوں سے اترتے وقت اس کا پیر پھسلا اور وہ منہ کے بل زمین پر آ گرا۔لوگوں نے یہ تقریر سن کر بڑے قہقہے لگائے اور بڑے ہنستے رہے لیکن اس بات کے بعد واقعہ کیا ہوا۔اللہ تعالیٰ پکڑ کس طرح کرتا ہے۔اسی رات مولوی عبد الکریم کو خدا تعالیٰ نے پکڑ لیا۔وہ اپنے مکان کی چھت پر سو یا ہوا تھا۔رات کو کسی کام کے لئے اٹھا اور چونکہ اس چھت کی کوئی منڈیر نہیں تھی اور نیند سے اس کی آنکھیں بند ہو رہی تھیں اس کا ایک پاؤں چھت سے باہر جا پڑا اور وہ دھڑام سے نیچے آ گرا اور گرتے ہی مر گیا۔آپ فرماتے ہیں کہ دیکھو اگر اس کو غیب کا پردہ نہ ہونے کی صورت میں پتا ہوتا کہ مجھے گستاخی کی یہ سزا ملے گی تو کبھی گستاخی نہ کرتا بلکہ آپ پر ایمان لے آتا گو ایسا ایمان اس کے کسی کام نہ آتا کیونکہ جب غیب ہی نہ رہا تو ایمان کا کیا فائدہ۔ایمان تو اسی وقت آتا ہے جب کچھ غیب پر بھی ایمان لایا جائے۔ایمان تو وہی کارآمد ہوسکتا ہے جو غیب کی حالت میں ہو۔ثواب یا عذر سامنے نظر آنے پر تو ہر کوئی ایمان لاسکتا ہے۔(ماخوذ از تفسیر کبیر جلد 7 صفحه 23) انبیاء سے تمسخر کا نتیجہ بہر حال اس سے یہ بات بھی اس کا انجام دیکھنے والوں پر ظاہر ہوگئی کہ خدا تعالیٰ کے انبیاء کے ساتھ تمسخر کا نتیجہ کیا ہوتا ہے۔آج جو لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمسخرانہ رویہ اپنائے ہوئے ہیں یا بیہودہ گوئیاں کرتے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو اللہ تعالیٰ کے سب سے پیارے نبی ہیں۔کیا آپ کے بارے میں لوگوں کی بیہودہ گوئیوں کو اللہ تعالیٰ یونہی جانے دے گا؟ نہیں۔بلکہ اللہ تعالیٰ ایسوں کو دنیا میں بھی عبرت کا نشان بناتا ہے۔پس ایسے لوگوں کا علاج مسلمانوں کو ہاتھ سے نہیں یا بندوق سے نہیں کرنا بلکہ دعاؤں کے ذریعہ سے کرنا چاہئے۔لیکن اس کا بھی حقیقی ادراک احمدیوں کو ہی ہے۔اس لئے جیسا کہ میں نے کہا ہمیں اپنے دردوں کو دعاؤں میں ڈھالنا چاہئے اور ان دنوں میں خاص طور پر دعا کرنی چاہئے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس واقعہ کا جو پہلے مولوی کا بیان ہو چکا ہے، ذکر کرتے ہوئے آگے مزید فرماتے ہیں کہ بہت سے لوگ ایسے تھے جو کہتے تھے کہ مرزا صاحب کو کوڑھ ہو جائے گا۔خدا نے انہیں ہی کوڑھ میں مبتلا کر دیا۔بہت کہتے تھے کہ مرزا صاحب کو طاعون ہو جائے گا۔خدا نے یہ کہنے