خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 748 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 748

خطبات مسرور جلد 12 748 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 دسمبر 2014ء جب وہ شخص اندر آیا تو میں نے کہا نو جوان! میں آپ کو جانتا نہیں آپ کون ہیں؟ اس نوجوان نے کہا کہ آپ میرے والد کو جانتے ہیں آپ ان کے واقف ہیں ان کا نام پادری وارث دین تھا۔میں نے کہا ہاں میں ابھی ان کا ذکر کر رہا تھا۔وہ نو جوان کہنے لگا کہ ابھی تار آئی ہے کہ پادری وارث دین فوت ہو گئے ہیں۔وارث دین ایک پادری تھا جس نے ڈاکٹر مارٹن کلارک کو خوش کرنے کے لئے اس کی طرف سے یہ ساری کارروائی کی تھی۔( مقدمہ وغیرہ کروایا تھا مگر خدا تعالیٰ نے ڈپٹی کمشنر صاحب پر حق کھول دیا اور خود جو گواہ تھا اس نے بھی اقرار کر لیا کہ جو کچھ کیا جارہا ہے یہ سب جھوٹ ہے۔مگر عین اس وقت جب سر ڈگلس وارث دین کا ذکر کر رہے تھے۔ان کے بیٹے کا وہاں آنا اور اپنے والد کی وفات کی خبر دینا عجیب اتفاق تھا۔سر ڈگلس اپنی موت تک جس احمدی کو بھی ملتے رہے اسے یہ واقعہ بتاتے رہے۔انہوں نے مجھے بھی یہ واقعہ سنایا، چوہدری فتح محمد صاحب سیال کو بھی اور چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو بھی یہ سب واقعہ سنایا۔( حضرت مصلح موعود کہتے ہیں کہ )1924ء میں جب میں لندن آیا تو ان کی صحت اچھی تھی۔کہتے ہیں یہ 32 سال قبل کا واقعہ ہے۔اور اب وہ ( سر ڈگلس ) 93 سال کی عمر میں فوت ہوئے ہیں۔24 ء میں ان کی 61 سال عمر تھی۔حضرت مصلح موعود کہتے ہیں کہ اب جب میں 1953ء میں دوبارہ گیا تو میں نے انہیں بلایا تو انہوں نے معذرت کر دی اور کہا۔میں اب بوڑھا ہو گیا ہوں اور بہت کمزور ہوں اب میرے لئے چلنا پھرنا مشکل ہے۔حضرت مصلح موعود کہتے ہیں کہ اب سنا ہے کہ وہ فوت ہو گئے ہیں تو مجھے افسوس ہوا کہ موٹر ہمارے پاس تھی۔ہم موٹر میں ہی انہیں منگوا لیتے۔یا ان کے گھر چلے جاتے۔( تو لکھتے ہیں کہ ) یہ آیات بینات ہیں جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ دنیا میں اپنے انبیاء کی سچائی ظاہر کرتا رہتا ہے اور مومن کو چاہئے کہ وہ سچے معنوں میں مومن بننے کے لئے کوشش کرے۔اگر وہ حقیقی مومن بنے تو اللہ تعالیٰ ضرور غیب سے ایسے حالات پیدا کرتا ہے جس سے اس کا ایمان تازہ ہوتا رہتا ہے اور درحقیقت ایسے ایمان کے بغیر کوئی مزہ بھی نہیں۔جس ایمان نے آنکھیں نہ کھولیں اور انسان کو اندھیرے میں رکھا اس کا کیا فائدہ۔جو اس جہان میں اندھار ہے گا وہ دوسرے جہان میں بھی اندھا رہے گا اور جسے اسی جہان میں آیات بینات نظر نہیں آتیں اس کو اگلے جہان میں بھی آیات بینات نظر نہیں آئیں گی۔اس دنیا میں آیات بینات نظر آئیں تو دوسری دنیا میں بھی آیات بینات نظر آتی ہیں۔(ماخوذ از الفضل 30 مارچ 1957 صفحہ 6-7 جلد 11 / 46 نمبر 77) اب یہ نشانات کی بات ہے۔تو نشانات کا یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔گو اس بات کو سو سال سے