خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 747 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 747

خطبات مسرور جلد 12 747 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 دسمبر 2014ء مطابق عبدالحمید کو پادریوں سے لے لیا گیا۔پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔دوسرے دن یا اسی دن اس نے فوراً اقرار کر لیا کہ میں جھوٹ بولتا رہا ہوں۔سپرنٹنڈنٹ پولیس کا بیان ہے کہ میں نے اسے سچ سچ بیان دینے کے لئے کہا تو اس نے پہلے تو اصرار کیا کہ وہ واقعہ بالکل سچا ہے۔مرزا صاحب نے مجھے ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک کے قتل کے لئے بھیجا تھا لیکن میں نے سمجھ لیا کہ یہ شخص پادریوں سے ڈرتا ہے۔چنانچہ میں نے کہا کہ میں نے ڈپٹی کمشنر صاحب سے حکم لے لیا ہے کہ اب تمہیں پادریوں کے پاس نہیں جانے دیا جائے گا اب تم پولیس کے حوالات میں ہی رہو گے۔تو وہ میرے پاؤں پر گر گیا اور کہنے لگا صاحب! مجھے بچالو۔میں اب تک جھوٹ بولتا رہا ہوں۔اس نے مجھے بتایا کہ صاحب آپ دیکھتے نہیں تھے کہ جب میں گواہی کے لئے عدالت میں پیش ہوتا تھا تو میں ہمیشہ ہاتھ کی طرف دیکھتا تھا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ جب پادریوں نے مجھے کہا کہ جاؤ اور عدالت میں بیان دو کہ مجھے مرزا صاحب نے ہنری مارٹن کلارک کے قتل کے لئے بھیجا تھا اور امرتسر میں مجھے فلاں مستری کے گھر میں جانے کے لئے ہدایت دی تھی۔{ حضرت مصلح موعود کہتے ہیں یہ دوست مستری قطب دین صاحب تھے جن کا ایک پوتا اس وقت ( اس زمانے میں ) جامعہ میں پڑھتا ہے۔وہ کہتے ہیں اس نے کہا کہ } میں تو وہاں کے احمدیوں کو جانتا نہیں۔مجھے اس کا نام یاد نہیں رہے گا۔اس پر مستری صاحب کا نام کوئلے کے ساتھ میری ہتھیلی پر لکھ دیتے تھے۔جب میں گواہی دینے آتا تھا اور ڈپٹی کمشنر مجھ سے دریافت کرتے تھے کہ تمہیں امرتسر میں کس کے گھر بھیجا گیا تھا تو میں ہاتھ اٹھاتا تھا اور اس پر سے نام دیکھ کر کہہ دیتا تھا کہ مرزا صاحب نے مجھے فلاں احمدی کے پاس بھیجا تھا۔( ہر دفعہ مختلف گواہوں کے لئے نام بھی لکھے جاتے تھے۔غرض اس نے ساری باتیں بتا دیں اور سر ڈگلس نے اگلی پیشی پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بری کر دیا۔تو دیکھو یہ سب واقعات ہمارے لئے آیات بینات ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے سر ڈگلس کے لئے اور آیات بینات بھی پیدا کئے۔ایک آیت بینہ یہ تھی کہ انہیں ٹہلتے ٹہلتے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر نظر آتی تھی اور وہ تصویر کہتی تھی کہ میں بے گناہ ہوں میرا کوئی قصور نہیں۔( حضرت مصلح موعود کہتے ہیں ) پھر انہوں نے خود مجھے سنایا کہ ایک دن میں گھر میں بیٹھا ہوا تھا۔ایک ہندوستانی آئی سی ایس آیا ہوا تھا۔اس نے مجھ سے دریافت کیا کہ آپ اپنی زندگی کے عجیب حالات میں سے کوئی ایک واقعہ بتا ئیں تو میں نے اسے یہی مرز اصاحب والا واقعہ سنایا۔میں یہ واقعہ سنارہا تھا کہ ان کا جو بیرا تھا، کام کرنے والا تھا، اس نے ایک کارڈ لا کر دیا اور کہا ابا ہر ایک آدمی کھڑا ہے جو آپ سے ملنا چاہتا ہے۔میں نے کہا اس کو اندر بلا لو۔