خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 749 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 749

خطبات مسرور جلد 12 749 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 دسمبر 2014ء بھی زیادہ عرصہ ہو گیا ہے جو ایک بڑا نشان تھا۔اور یہ نشان اب اس طرح ظاہر ہو رہا ہے کہ کیپٹن ڈگلس کے نواسے نے مجھے پیغام بھجوایا کہ میں بیعت کرنی چاہتا ہوں اور کہا کہ میں سوچتا ہوں کہ کون سا نیک کام میرے نانا سے ہوا تھا ، اور اتنی بڑی نیکی ہوئی تھی کہ میرے دل میں شدت سے خواہش پیدا ہو رہی ہے کہ میں احمدیت میں شامل ہو جاؤں۔اور یہ ہے نشان کہ آج اس کے نواسے کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ وہ سچائی جو سر ڈگلس کو دکھائی گئی تھی اس کو اس نے تو قبول نہیں کیا لیکن اس سچائی کو دیکھ کر میں آج قبول کرتا ہوں اور مارٹن کلارک کے پڑ پوتے کا قصہ تو آپ لوگ سن ہی چکے ہیں۔پہلے بھی بیان ہو چکا ہے کہ اس نے یہاں ( جلسہ پر ) آکے واضح طور پر اعلان کیا تھا کہ میرا پردادا غلط تھا اور حضرت مرزا صاحب کچے تھے۔حضرت مصلح موعود کہتے ہیں کہ پس مومن کو ہمیشہ دعاؤں اور ذکر الہی میں لگے رہنا چاہئے کہ وہ دن اسے نصیب ہو جب اللہ تعالیٰ اسلام اور اپنی ذات کی سچائی اس کے لئے کھول دے اور اس کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منور چہرہ اور خدا تعالیٰ کا نورانی چہرہ نظر آ جائے۔جب یہ ہو جائے تو پھر رات اور دن اور سال تکلیف کے سال ہوں یا خوشی کے سال ہوں اس کے لئے برابر ہو جاتے ہیں۔بس اگر اللہ تعالیٰ کا چہرہ نظر آ جائے ، آپ کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ نظر آ جائے تو پھر کوئی خوشی غمی کا احساس نہیں رہتا۔بس ایک ہی احساس رہتا ہے اور اسی محبت میں انسان ڈوبا رہتا ہے۔فرماتے ہیں اور چاہے کچھ بھی ہو ایسا آدمی ہمیشہ خوش رہتا ہے اور مطمئن رہتا ہے کسی سے ڈرتا نہیں۔جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر جب کرم دین بھیں والا مقدمہ ہوا تو مجسٹریٹ ہندو تھا۔آریوں نے اسے ورغلا یا اور کہا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ضرور کچھ سزا دے اور اس نے ایسا کرنے کا وعدہ بھی کر لیا۔خواجہ کمال الدین صاحب نے یہ بات سنی تو وہ ڈر گئے۔وہ کہنے لگے حضور! بڑے فکر کی بات ہے۔آریوں نے مجسٹریٹ سے کچھ نہ کچھ سزا دینے کا وعدہ لے لیا ہے۔آپ کسی طرح قادیان تشریف لے چلیں۔گورداسپور میں مزید عرصہ نہ ٹھہر ہیں۔اگر آپ گورداسپور میں ٹھہرے تو مجسٹریٹ نے کل آپ کو کوئی نہ کوئی سزا ضرور دے دینی ہے۔حضرت صاحب نے فرمایا۔خواجہ صاحب! اگر میں قادیان چلا جاؤں تو وہاں سے بھی مجھے پکڑا جاسکتا ہے۔پھر میں کہاں جاؤں گا۔مجسٹریٹ کو اختیارات حاصل ہیں اگر قادیان گیا تو وہاں بھی وارنٹ آ سکتے ہیں اور وہاں سے کسی دوسری جگہ گیا تو وہ بھی محفوظ جگہ نہیں ہوگی وہاں بھی وارنٹ جاری کئے جا سکتے ہیں۔پھر میں کہاں کہاں بھاگتا پھروں گا۔خواجہ صاحب کہنے لگے حضور! آریوں نے مجسٹریٹ سے کچھ نہ کچھ سزا دینے کا وعدہ لے لیا ہے۔اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لیٹے ہوئے تھے۔آپ اٹھ کر بیٹھے اور