خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 746
خطبات مسرور جلد 12 746 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 دسمبر 2014ء انتظام کرو۔ٹرین پر بلنگ کراؤ۔چنانچہ میں مناسب انتظامات کرنے کے لئے ریلوے اسٹیشن پر آ گیا۔میں اسٹیشن سے باہر نکل کر برآمدے میں کھڑا تھا تو میں نے دیکھا کہ سر ڈگلس سڑک پر ٹہل رہے ہیں۔وہ کبھی ادھر جاتے ہیں اور کبھی ادھر۔ان کا چہرہ پریشان ہے۔میں ان کے پاس گیا اور کہا۔صاحب! آپ باہر پھر رہے ہیں۔میں نے ویٹنگ روم میں کرسیاں بچھائی ہوئی ہیں آپ وہاں تشریف رکھیں۔وہ کہنے لگے منشی صاحب! آپ مجھے کچھ نہ کہیں میری طبیعت خراب ہے۔میں نے کہا کچھ بتا ئیں تو سہی آخر آپ کی طبیعت کیوں خراب ہو گئی ہے تا کہ اس کا مناسب علاج کیا جا سکے۔اس پر وہ کہنے لگے کہ جب سے میں نے مرزا صاحب کی شکل دیکھی ہے اس وقت سے مجھے یوں نظر آتا ہے کہ کوئی فرشتہ مرزا صاحب کی طرف ہاتھ کر کے مجھ سے کہہ رہا ہے کہ مرزا صاحب گناہگار نہیں۔ان کا کوئی قصور نہیں۔پھر میں نے عدالت کو ختم کر دیا اور یہاں آیا تو اب ٹہلتا ٹہلتا جب اس کنارے کی طرف نکل جاتا ہوں تو وہاں مجھے مرزا صاحب کی شکل نظر آتی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ کام نہیں کیا یہ سب جھوٹ ہے۔پھر میں دوسری طرف جاتا ہوں تو وہاں بھی مرزا صاحب کھڑے نظر آتے ہیں اور وہ کہتے ہیں یہ سب جھوٹ ہے۔میں نے یہ کام نہیں کیا۔اگر میری یہی حالت رہی تو میں پاگل ہو جاؤں گا۔میں نے کہا صاحب! آپ چل کر ویٹنگ روم میں بیٹھیں۔سپرنٹنڈنٹ پولیس بھی آئے ہوئے ہیں وہ بھی انگریز ہیں۔ان کو بلا لیتے ہیں شاید ان کی بات سن کر آپ کو تسلی ہو جائے۔سپرنٹنڈنٹ صاحب پولیس کا نام لیمار چنڈ تھا۔سر ڈگلس نے کہا انہیں بلوالو۔چنانچہ میں نے انہیں بلا لا یا۔جب وہ آئے تو سر ڈگلس نے ان سے کہا کہ دیکھو یہ حالات ہیں میری جنون کی سی حالت ہو رہی ہے۔میں اسٹیشن پر ٹہلتا ہوں اور گھبرا کر اس طرف جاتا ہوں تو وہاں کنارے پر مرزا صاحب کھڑے نظر آتے ہیں اور ان کی شکل مجھے کہتی ہے کہ میں بے گناہ ہوں مجھ پر جھوٹا مقدمہ کیا گیا ہے۔پھر دوسری طرف جاتا ہوں تو وہاں کنارے پر مرزا صاحب کی شکل نظر آتی ہے اور وہ کہتی ہے کہ میں بے گناہ ہوں۔یہ سب کچھ جھوٹ ہے جو کیا جا رہا ہے۔یہ دیکھ کے میری حالت پاگلوں کی سی ہو گئی ہے۔اگر تم اس سلسلے میں کچھ کر سکتے ہوتو کر دور نہ میں پاگل ہو جاؤں گا۔تو سپر نٹنڈنٹ پولیس نے کہا اس میں کسی اور کا قصور نہیں آپ کا اپنا قصور ہے۔آپ نے گواہ کو پادریوں کے حوالے کیا ہوا ہے۔جو گواہ ہے وہ کہتا ہے کہ مجھے قتل کے لئے بھیجا گیا تو اس کو آپ نے پادریوں کے حوالے کیا ہوا ہے۔وہ لوگ جو کچھ اسے سکھاتے ہیں وہ عدالت میں آکر بیان دیتا ہے۔آپ اسے پولیس کے حوالے کریں اور پھر دیکھیں کہ وہ کیا بیان دیتا ہے۔چنانچہ اسی وقت سر ڈگلس نے کاغذ قلم منگوایا اور حکم دے دیا کہ عبدالحمید کو پولیس کے حوالے کیا جائے۔اور حکم کے