خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 718
خطبات مسرور جلد 12 718 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 نومبر 2014ء حکومت اس کی مدد کرتی ہے۔اس وقت ایسے انسان کے لئے حکومت ہی سب کچھ ہوتی ہے۔باقی سب چیزیں پیچھے رہ جاتی ہیں۔لیکن یوں بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ ایک وقت میں حکومت بھی انسان کا ساتھ نہیں دیتی۔وہ سمجھتا ہے کہ میرے حقوق مجھے نہیں مل رہے۔انصاف سے کام نہیں لیا جا ر ہا۔تو پھر وہ ان لوگوں کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے جو انسانی ہمدردی کے تحت کام کرتے ہیں اور پھر یہ انسانی ہمدردی رکھنے والے اس کے کام آ بھی جاتے ہیں۔انسانی ہمدردی کی ایک رو پیدا ہوتی ہے جو کئی ممالک یا دنیا تک پھیل جاتی ہے اور اس انسانی ہمدردی کی وجہ سے وہ انسان یا وہ گروہ یا وہ چند لوگ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتے ہیں، اپنے مقصد کو پالیتے ہیں۔تب وہ سمجھتے ہیں یا اگر ایک انسان ہے تو سمجھتا ہے کہ تمام دنیا مل کر یا دنیا کی انسانی ہمدردی کی تنظیمیں مل کر اس کے کام آئی ہیں ، اور کوئی اس کے کام نہیں آسکا۔اور اگر یہ کام نہ آتیں تو وہ اپنے حقوق اور انصاف کو حاصل کرنے سے محروم رہ جاتا۔پس اس دنیاوی رشتے کو جو انسانی ہمدردی کے نام پر اس کے حق دلانے میں مددگار ہوا وہ سب کچھ سمجھتا ہے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 12 صفحه 119-120 ) آجکل تو انسانی حقوق کی تنظیمیں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر قائم ہیں اور کام کر رہی ہیں اور حقوق کے لئے دنیاوی حکومتوں سے جنگیں بھی لڑتی ہیں، قانونی جنگیں لڑتی ہیں ، بین الاقوامی دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتی ہیں۔بعض بہت اچھا کام بھی کر رہی ہیں اور مشکل میں گرفتار لوگوں کی مدد بھی کرتی ہیں۔لیکن اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ جب نہ اپنی کوششیں اور تدبیریں کام آتی ہیں نہ رشتہ دار کام آتے ہیں ، نہ دوست احباب کام آتے ہیں، نہ قوم یا نظام کام آتا ہے، نہ حکومت اور انسانی ہمدردی کی تنظیمیں کامیابی کا ذریعہ بنتی ہیں یا ان میں اسے کامیابی حاصل کرنا ممکن نظر آتا ہے۔لیکن پھر بھی اگر کوئی انسان ان سب چیزوں کے باوجود اپنے مقصد کو حاصل کر لے، اسے کامیابی حاصل ہو جائے تو وہ سمجھتا ہے کہ میری کامیابی یقینا کسی غیبی مدد سے ہوئی ہے اور جتنا کسی کو غیبی مدد کا یقین ہوتا ہے اتنا ہی وہ اپنی کامیابی کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے۔انسانی ہمدردی کی تنظیموں کا ذکر ہوا تو اس بارے میں تو آجکل احمدیوں کو تو کا فی علم ہے۔مختلف ممالک میں جو اسائلم کے لئے احمدی پھنسے ہوئے ہیں، انتظار میں بیٹھے ہیں۔کئی ایسی تنظیمیں ہیں بلکہ ایک بڑی تنظیم جو یونائیٹڈ نیشن کی قائم کردہ ہے وہ بھی ہمدردی کی کوشش کرتی ہے لیکن حکومتیں ان کی بھی بات نہیں