خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 719
خطبات مسرور جلد 12 719 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 نومبر 2014ء مانتیں۔بعض دفعہ ایسے بھی حالات پیدا ہوتے ہیں۔تو بہر حال جب سارے ایسے حالات پیدا ہو جائیں اور کام بھی ہو جائیں تو انسان سمجھتا ہے کہ کسی غیبی ہستی نے میری مدد کی ہے اور اگر اس کو خدا پر یقین ہے تو پھر وہ خیال کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے میرا کام کیا ہے۔لیکن اگر انسان خدا تعالیٰ پر کامل یقین رکھتا ہو اور یہ بات سمجھتا ہو کہ اللہ تعالیٰ ہی استمداد کا حق رکھتا ہے، مدد کرتا ہے، مدد دے سکتا ہے تو وہ اس کام کی کامیابی کو بھی خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرے گا جو کسی بیرونی مدد کے ذریعے اس نے تکمیل تک پہنچایا اور اس حقیقت کو بھی جانتا ہوگا کہ رشتہ داروں، دوستوں، نظام، قوم، حکومت یا انسانی ہمدردی کی تنظیمیں جنہوں نے بھی اس کی مدد کی وہ سب مدد بھی اصل میں خدا تعالیٰ نے ہی کی تھی۔اور ان تمام ظاہری مددوں کے پیچھے خدا تعالیٰ کا طاقتور ہاتھ تھا۔لیکن جو لوگ خدا تعالیٰ سے مضبوط تعلق نہیں رکھتے وہ دنیاوی ذرائع کو سب کچھ سمجھتے رہتے ہیں اور انہی کی طرف ان کی توجہ رہتی ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف نظر نہیں اٹھتی۔لیکن جب یہ تمام ذرائع نا کام ہو جاتے ہیں پھر خدا تعالیٰ یاد آتا ہے۔کیونکہ اب خدا تعالیٰ کی یاد آنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔تمام دنیاوی ذرائع جو تھے وہ استعمال ہو گئے۔تب وہ کہتا ہے کہ یا اللہ! تو ہی مدد کرے تو یہ کام ہو گا۔سب طاقتوں کا مالک تو ہی ہے۔سب تعریفیں تیری ذات کی ہی ہیں۔پس یہ اس بات کی بھی دلیل ہے اور یہ بات اس طرف بھی اشارہ کر رہی ہے کہ کوئی بڑی سے بڑی تدبیر یا حکومت اور تنظیم ایک محدود طاقت رکھتی ہے۔اور یہ سب دنیاوی طاقتیں اور تدبیریں ایک حد کے بعد ناکارہ اور بے فائدہ ہو جاتی ہیں۔میں نے ابھی کہا تھا کہ جو لوگ خدا تعالیٰ سے مضبوط تعلق نہیں رکھتے وہ پہلے تو دنیاوی سہاروں کو بہت کچھ سمجھتے ہیں لیکن جب یہ سہارے ناکام ہو جاتے ہیں تو پھر خدا تعالیٰ کی طرف دیکھتے ہیں۔لیکن صرف خدا تعالیٰ سے مضبوط تعلق رکھنے والوں کی بات نہیں ہے بلکہ قرآن کریم تو کہتا ہے کہ ایسی مایوسی کی حالت میں دہریہ اور مشرک بھی بے اختیار ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ فَلَمَّا نَجْكُمْ إِلَى الْبَرِ أَعْرَضْتُمْ وَكَانَ الْإِنْسَانُ كَفُورًا - (بنی اسرائیل: 68) یعنی وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُونَ إِلَّا إِيَّادُ۔اور جب تمہیں سمندر میں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اس کے سوا ہر وہ ذات جسے تم بلاتے ہو ساتھ چھوڑ جاتی ہے اور پھر جب وہ تمہیں خشکی کی طرف بچا کر لے جاتا ہے تو اس سے اعراض کرتے ہو اور انسان بہت ہی ناشکرا ہے۔پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ طوفانوں اور مشکلات میں تو خدا تعالیٰ کو پکارنے لگ جاتے ہوا اور جب