خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 717
خطبات مسرور جلد 12 717 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 نومبر 2014ء ضرورتیں خود پوری کرلوں گا اور اپنی طاقت ، اپنے علم، اپنی عقل سے وہ ضرورتیں پوری کر بھی لیتا ہے اور وہ سمجھتا ہے دیکھو میں نے اپنی قابلیت اور طاقت اور قوت سے اپنے مسائل خود حل کر لئے۔اس بات پر گھمنڈ اور فخر کرتا ہے کہ میں کسی سے مدد نہیں لیتا یا میں نے کسی سے مدد نہیں لی۔لیکن بعض دفعہ ایسے حالات آ جاتے ہیں جب وہ اپنی ضرورتیں خود پوری نہیں کر سکتا اور اسے باہر کی مدد چاہئے ہوتی ہے۔تب اس کی نظر اپنے عزیزوں اور اپنے رشتہ داروں کی طرف جاتی ہے۔ان سے مدد لیتا ہے اور وہ اس کی مدد کر بھی دیتے ہیں۔اس وقت اسے خیال آتا ہے کہ رشتہ داری بھی اچھی چیز ہے۔اگر آج میرے یہ رشتہ دار نہ ہوتے تو میں اپنی ضرورتیں پوری نہیں کر سکتا۔پھر بعض دفعہ یہ صورتحال پیدا ہو جاتی ہے کہ انسان کے اہل وعیال متعلقین ، رشتہ دار اس کے کام نہیں کر سکتے یا اس کے کام نہیں آسکتے یا نہیں کرتے تب وہ نظر دوڑاتا ہے تو اس کی نظر اپنے دوست احباب پر پڑتی ہے، ملنے والوں پر پڑتی ہے جو اس کے خیال میں اس کی مدد کر سکتے ہیں۔ان سے مدد لیتا ہے۔وہ مدد کر بھی دیتے ہیں۔وہ سمجھتا ہے کہ دوست احباب بھی اچھے ہوتے ہیں جو آڑے وقت میں کام آجاتے ہیں۔پھر ایک زمانہ ایسا بھی آتا ہے جب دوستوں کے پاس جائے تو وہ بھی اپنی مجبوریاں بتا دیتے ہیں۔جائز مجبوریاں ہوں یا کسی سے جان چھڑانے کا بہانہ ہو۔بہر حال وہ اس کے کام نہیں آ سکتے۔بعض دفعہ ایسی صورتحال بھی ہوتی ہے کہ دوستوں کے بس میں وہ مدد ہوتی بھی نہیں کہ وہ کر نہیں سکتے۔ان کی پہنچ سے وہ کام باہر ہوتا ہے۔تو ایسے وقت میں وہ انسان بعض نظاموں کی طرف توجہ کرتا ہے۔اور وہ سلسلہ یا جماعت جس سے وہ تعلق رکھتا ہے وہ اس کی مدد کرتے ہیں اور جب اس کا کام ہو جاتا ہے، اس کی ضرورت پوری ہو جاتی ہے بلکہ ضرورتیں پوری ہوتی رہتی ہیں تو اس کو خیال آتا ہے کہ سلسلہ یا نظام یا جماعت سے جڑنا بھی اچھی چیز ہے اور اس وجہ سے سلسلہ یا جماعت سے اس کی وابستگی بڑھ جاتی ہے۔بلکہ میں نے دیکھا ہے کہ بعض لوگوں کو اس وجہ سے ٹھو کر بھی لگ جاتی ہے کہ میں نے فلاں وقت جماعت سے مدد مانگی تھی اور مدد نہیں کی گئی۔بہر حال یہ صحیح ہے کہ بعض لوگوں کی مرضی کے مطابق اگر کام ہوں تو تبھی یا ان کی مدد ہو تو وہی ان کی جماعت سے وابستگی بڑھانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔پھر بعض انسانوں کی زندگی میں ایسے مواقع بھی آتے ہیں کہ ان کے اہل وعیال، رشتہ دار، دوست احباب حتی کہ بعض مجبوریوں اور پابندیوں کی وجہ سے نظام اور جماعت بھی کوئی مدد نہیں کر سکتی اور اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔اس وقت وہ حکومت جس سے وہ تعلق رکھتا ہے اس کے پاس جاتا ہے۔