خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 713 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 713

خطبات مسرور جلد 12 713 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 نومبر 2014ء میری مرضی کے لئے اپنی مرضی کو چھوڑتا ہے ) اور اپنے نفس کے ترک اور اخذ کے لئے مجھے حکم بناتا ہے ( یعنی اپنے ذاتی خواہشات یا نفسانی خواہشات جو ہیں ان کو چھوڑنے اور لینے کے لئے مجھ سے فیصلہ لیتا ہے کہ میں کیا کہتا ہوں ) اور میری راہ پر چلتا ہے اور اطاعت میں فانی ہے اور انانیت کی جلد سے باہر آ گیا ہے۔( انانیت اس میں کوئی نہیں) مجھے آہ کھینچ کر یہ کہنا پڑتا ہے کہ کھلے نشانوں کے طالب وہ تحسین کے لائق خطاب اور عزت کے لائق مرتبے میرے خداوند کی جناب میں نہیں پاسکتے جو ان راستبازوں کو ملیں گے جنہوں نے چھپے ہوئے بھید کو پہچان لیا ( جو نشانوں کے طالب ہیں وہ اعلیٰ قسم کے خطابات جو ہیں اور جو عزت والے مرتبے ہیں وہ نہیں پاسکتے۔صرف وہی مرتبے پائیں گے جوان راستبازوں کو ملیں گے جنہوں نے چھپے ہوئے بھید کو پالیا، پہچان لیا) اور جو اللہ جلشانہ کی چادر کے تحت میں ایک چھپا ہوا بندہ تھا اس کی خوشبو ان کو آ گئی۔( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ابتدائی دور میں پہچانا ) انسان کا اس میں کیا کمال ہے کہ مثلاً ایک شہزادہ کو اپنی فوج اور جاہ و جلال میں دیکھ کر پھر اس کو سلام کرے۔با کمال وہ آدمی ہے جو گداؤں کے پیرا یہ میں اس کو پاوے اور شناخت کر لیوے۔(شہزادے کو فقیروں کے لباس میں دیکھے اور پھر پہچان لے ) مگر میرے اختیار میں نہیں کہ یہ زیر کی کسی کو دوں۔( یہ عقل کسی کو دوں )۔ایک ہی ہے جو دیتا ہے۔وہ جس کو عزیز رکھتا ہے ایمانی فراست اس کو عطا کرتا ہے۔انہیں باتوں سے ہدایت پانے والے ہدایت پاتے ہیں اور یہی باتیں ان کے لئے جن کے دلوں میں کبھی ہے زیادہ تر کمی کا موجب ہو جاتی ہیں۔( یہی باتیں ہیں کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دینی ہے وہ ہدایت پا جاتے ہیں اور جن کے دلوں میں ٹیڑھا پن ہے، کبھی ہے وہ اس میں اور بھی زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔فرمایا کہ ) اب میں جانتا ہوں کہ نشانوں کے بارے میں میں بہت کچھ لکھ چکا ہوں اور خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ یہ بات صحیح راست ہے کہ اب تک تین ہزار کے قریب یا کچھ زیادہ وہ امور میرے لئے خدا تعالیٰ سے صادر ہوئے ہیں جو انسانی طاقتوں سے بالاتر ہیں اور آئندہ ان کا دروازہ بند نہیں۔“ آئینہ کمالات اسلام ، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 349-350) اللہ تعالیٰ دنیا کو عقل دے کہ وہ نشانوں کو سمجھنے والے بھی ہوں اور صرف نشانوں کا مطالبہ اپنی عقل اور خواہش کے مطابق کرنے والے نہ ہوں بلکہ وقت کی ضرورت اور زمانے کی آواز اور حالت جو خدا تعالیٰ کے فرستادہ کی ضرورت کا اظہار کر رہی ہے، اس کو سنیں اور اس کو سمجھنے کی کوشش کریں۔اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کو تلاش کر کے ماننے والے بھی ہوں تا کہ اس دنیا میں فسادوں کا خاتمہ ہو سکے۔