خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 714
خطبات مسرور جلد 12 714 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 نومبر 2014ء آج ایک جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا جو مکرم غلام قادر صاحب در ولیش قادیان ابن مکرم عبدالغفار صاحب مرحوم کا ہے۔یہ 12 نومبر 2014ء کو نوے سال کی عمر میں بقضائے الہی وفات پاگئے۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔آپ تین سو تیرہ درویشوں میں شامل تھے۔تاریخ احمدیت میں ان کا درویشوں میں 189 نمبر ہے۔اپریل 1925ء میں بمقام شادیوال گجرات میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم بھی وہیں حاصل کی۔فوج میں بھرتی ہو گئے۔ملازمت کو چار سال ہوئے تھے کہ حفاظت مرکز کے لئے حضرت مصلح موعود کی تحریک پر کہ نوجوان اپنی زندگیاں وقف کریں قادیان آئے۔1947ء میں یہاں حاضر ہو گئے۔تبلیغ کا بھی بڑا شوق تھا۔سکھوں کو خاص طور پر تبلیغ کرتے تھے۔اس سلسلہ میں آپ نے بہت نادر اور نایاب کتب اور حوالہ جات بھی جمع کئے ہوئے تھے۔آپ نے ایک خواب دیکھی تھی کہ ان کی عمر تقریباًنوے سال ہوگی۔مرحوم موصی بھی تھے۔ان کے تین بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں۔ایک بیٹی جو ہے وہ مکرم ظفر اللہ پونتو صاحب جو انڈونیشیا کے مربی سلسلہ ہیں ان سے بیاہی ہوئی ہیں۔ان کے بیٹے نے لکھا کہ درویشی کے دوران معمولی وظیفہ تھا پھر بھی محنت مزدوری کر کے اپنی بیوہ والدہ اور تین بہنوں کو گزارے کی رقم بھجوایا کرتے تھے کیونکہ یہ بھائی بہنوں میں بڑے تھے۔ہمارے مربی کلیم طاہر صاحب ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں ایک دفعہ 1997ء کے رمضان میں قادیان گیا۔اعتکاف بیٹھنے کا موقع ملا تو یہ وہاں میرے ساتھ تھے۔کہتے ہیں دورانِ گفتگو کشمیری چائے کا ذکر ہو گیا کہ مجھے پسند ہے۔اس کے بعد روزانہ ان کے گھر سے جو چائے آتی تھی اس کی تھر مس کہتے ہیں مجھے دے دیا کرتے تھے۔پھر ان مربی صاحب کا ایکسیڈنٹ ہو گیا تو یہ اس عرصے میں قادیان سے ربوہ گئے۔وہاں جا کے کہتے ہیں کہ بڑے جذباتی رنگ میں میرے پاس آ کے طبیعت بھی پوچھی اور روتے بھی رہے۔دعائیں بھی کرتے رہے۔باوجود بیماری کے اور کمزوری کے نظر بھی کم آتا تھا، نظر خراب ہو گئی تھی آخری وقت تک مسجد مبارک میں جا کر نماز ادا کیا کرتے تھے کہ مجھے یہیں سکون ملتا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ان کے علاوہ دو اور درویش بھی ہیں جو چند ماہ پہلے فوت ہوئے تھے۔ان کا جنازہ غائب تو پہلے پڑھا گیا تھا لیکن ذکر خیر نہیں ہوا تھا۔ان کا بھی آج ذکر کرنا چاہتا ہوں۔احباب ان کو اور ان کی اولادوں کو بھی اپنی دعاؤں میں یا درکھیں۔ان درویشوں نے بڑی بڑی قربانیاں دی ہوئی ہیں۔ایک لمبا عرصہ بڑی غربت میں، بڑے معمولی حالات میں، بڑے معمولی گزارے پر قادیان میں گزارا ہے اور شعائر اللہ کی حفاظت کا حق ادا کیا ہے۔ان میں سے ایک تو مرزا محمد اقبال صاحب ہیں جو مرزا آدم بیگ صاحب کے