خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 712
خطبات مسرور جلد 12 712 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 نومبر 2014ء اور پھر آپ نے فرمایا کہ بے شمار زمینی اور آسمانی نشان جن کا ذکر ہو چکا ہے ہوتے ہیں۔اب آجکل دنیا کی جو توجہ پیدا ہورہی ہے اور جماعت کا پیغام بھی سن رہے ہیں یہ بھی نشانوں میں سے ایک نشان ہے کہ میڈیا کی طرف کسی بھی بہانے سے کسی بھی وجہ سے توجہ پیدا ہو رہی ہے۔بہر حال نشانات تو ہر نظمند کے لئے ہر روز ظاہر ہوتے ہیں اور ہورہے ہیں۔پھر آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ خدائے تعالیٰ اپنے اس سلسلہ کو بے ثبوت نہیں چھوڑے گا۔وہ خود فرماتا ہے جو براہین احمدیہ میں درج ہے کہ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کرے گا۔جن لوگوں نے انکار کیا اور جو انکار کے لئے مستعد ہیں ان کے لئے ذلت اور خواری مقدر ہے۔انہوں نے یہ بھی نہ سوچا کہ اگر یہ انسان کا افتراء ہوتا تو کب کا ضائع ہو جاتا کیونکہ خدا تعالیٰ مفتری کا ایسا دشمن ہے کہ دنیا میں ایسا کسی کا دشمن نہیں۔وہ بیوقوف یہ بھی خیال نہیں کرتے کہ کیا یہ استقامت اور جرات کسی کذاب میں ہو سکتی ہے۔وہ نادان یہ بھی نہیں جانتے کہ جو شخص ایک غیبی پناہ سے بول رہا ہے وہی اس بات سے مخصوص ہے کہ اس کے کلام میں شوکت اور ہیبت ہو۔اور یہ اسی کا جگر اور دل ہوتا ہے کہ ایک فرد تمام جہان کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو جائے۔یقینا منتظر رہو کہ وہ دن آتے ہیں بلکہ نزدیک ہیں کہ دشمن روسیاہ ہوگا اور دوست نہایت ہی بشاش ہوں گے۔کون ہے دوست؟ وہی جس نے نشان دیکھنے سے پہلے مجھے قبول کیا اور جس نے اپنی جان اور مال اور عزت کو ایسا فدا کر دیا ہے کہ گویا اس نے ہزار ہا نشان دیکھ لئے ہیں۔سو یہی میری جماعت ہے اور میرے ہیں جنہوں نے مجھے اکیلا پایا اور میری مدد کی اور مجھے غمگین دیکھا اور میرے غمخوار ہوئے۔اور ناشناسا ہو کر پھر آشناؤں کا سا ادب بجالائے۔خدا تعالیٰ کی ان پر رحمت ہو۔اگر نشانوں کے دیکھنے کے بعد کوئی کھلی صداقت کو مان لے گا تو مجھے کیا اور اس کو اجر کیا ( نشان دیکھ لیا تو پھرا جبر کیسا) اور حضرت عزت میں اس کی عزت کیا۔(اگر تو اللہ تعالیٰ پر یقین ہے اور سب کچھ پتا ہے کہ حالات ایسے ہیں اور پھر ماننا ہے تو بھی اللہ تعالیٰ پر یقین ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حالات کے مطابق زمانے میں اپنے وعدے کے موافق اپنا فرستادہ بھیجا ہے۔فرمایا) مجھے در حقیقت انہوں نے ہی قبول کیا ہے جنہوں نے دقیق نظر سے مجھ کو دیکھا اور فراست سے میری باتوں کو وزن کیا اور میرے حالات کو جانچا اور میرے کلام کو سنا اور اس میں غور کی۔تب اسی قدر قرائن سے خدا تعالیٰ نے ان کے سینوں کو کھول دیا اور میرے ساتھ ہو گئے۔میرے ساتھ وہی ہے جو میری مرضی کے لئے اپنی مرضی کو چھوڑتا ہے ( میرے ساتھ وہی ہے جو