خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 707
خطبات مسرور جلد 12 707 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 نومبر 2014ء بہت سے شریف اور معزز تھے جو اس مجلس میں موجود تھے۔پھر جبکہ اس نے اس لفظ سے رجوع کر لیا بلکہ بعد اس کے روتا رہا تو خدا تعالیٰ کی جناب میں رحم کے قابل ہو گیا مگر صرف اسی قدر کہ اس کی موت میں چند ماہ کی تاخیر ہوگئی اور میری زندگی میں ہی مر گیا اور وہ بحث جو ایک مباہلہ کے رنگ میں تھی اس کی رُو سے وہ بوجہ اپنی موت کے جھوٹا ثابت ہوا تو کیا ابتک وہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔بیشک پوری ہو گئی اور نہایت صفائی سے پوری ہوئی۔ایسے دلوں پر خدا کی لعنت ہے کہ ایسے صریح نشانوں پر اعتراض کرنے سے باز نہیں آتے۔( جب یہ سارا کچھ پورا ہو گیا تو پھر بھی باز نہیں آتے۔) اگر وہ چاہیں تو آتھم کے رجوع پر میں چالیس ۴۰ آدمی کے قریب گواہ پیش کر سکتا ہوں اور اسی وجہ سے اس نے قسم بھی نہ کھائی حالانکہ تمام عیسائی قسم کھاتے آئے ہیں اور حضرت مسیح نے خود قسم کھائی اور ہمیں اس بحث کو طول دینے کی ضرورت نہیں۔آتھم اب زندہ موجود نہیں۔گیارہ 11 برس سے زیادہ عرصہ گذرا کہ وہ مر چکا ہے۔“ (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 221 تا223) یہ آپ اپنی کتاب حقیقۃ الوحی میں فرما رہے ہیں۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ بیان فرماتے ہوئے کہ قرآن کریم کی برکات انسانوں کی طاقت سے بہت برتر ہیں اور ماننے والوں کو نشان دکھا کر وہ یقینی معرفت عطا فرماتا ہے۔اور پھر اس برکت سے معجزات ظہور میں آتے ہیں۔بڑے عجیب عجیب نشانات ظاہر ہوتے ہیں۔(ماخوذ از چشمه معرفت ، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 402) آپ فرماتے ہیں کہ میں ان قرآنی برکات کو قصہ کے طور پر بیان نہیں کرتا۔( قرآن کریم کی جو برکتیں ہیں وہ صرف قصہ کہانیاں نہیں ہیں) بلکہ میں وہ معجزات پیش کرتا ہوں جو مجھ کو خود دکھائے گئے ہیں۔وہ تمام معجزات ایک لاکھ کے قریب ہیں بلکہ غالباً وہ ایک لاکھ سے بھی زیادہ ہیں۔خدا نے قرآن شریف میں فرمایا تھا کہ جو شخص میرے اس کلام کی پیروی کرے وہ نہ صرف اس کتاب کے معجزات پر ایمان لائے گا بلکہ اس کو بھی معجزات دیئے جائیں گے۔سو میں نے بذات خود وہ معجزات خدا کے کلام کی تاثیر سے پائے جو انسانوں کی طاقت سے بلند اور محض خدا کا فعل ہیں۔وہ زلزلے جو زمین پر آئے۔اور وہ طاعون جو دنیا کوکھا رہی ہے۔(اس زمانے میں بہت شدید طاعون تھی) وہ انہیں معجزات میں سے ہیں جو مجھ کو دیئے گئے۔میں نے ان آفات کے نام و نشان سے پچیس برس پہلے اپنی کتاب براہین احمدیہ میں ان حوادث کی خبروں کو بطور پیشگوئی شائع کر دیا تھا کہ یہ آفتیں آنے والی ہیں سو وہ تمام آفات آ گئیں اور ابھی بس نہیں بلکہ آنے