خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 706
خطبات مسرور جلد 12 706 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 نومبر 2014ء نام میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دجال کہا تھا ( نعوذ باللہ) اور یہ سچ ہے کہ پیشگوئی میں آتھم کے مرنے کے لئے پندرہ مہینے کی میعاد تھی۔مگر ساتھ ہی یہ شرط تھی جس کے یہ الفاظ تھے کہ ”بشر طیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔مگر آتھم نے اسی مجلس میں رجوع کر لیا اور نہایت عاجزی سے زبان نکال کر اور دونوں ہاتھ کانوں پر رکھ کر دجال کہنے سے ندامت ظاہر کی۔اس بات کے گواہ نہ ایک نہ دو بلکہ ساٹھ یا ستر آدمی ہیں۔جن میں سے نصف کے قریب عیسائی ہیں اور نصف کے قریب مسلمان۔اور میں خیال کرتا ہوں کہ پچاس کے قریب اب تک ان میں سے زندہ ہوں گے جن کے رو برو آتھم نے دجال کہنے سے رجوع کیا اور پھر مرتے وقت تک ایسا لفظ منہ پر نہیں لایا۔اب سوچنا چاہئے کہ کیسی بدذاتی اور بدمعاشی اور بے ایمانی ہے کہ باوجود اس کھلے کھلے رجوع کے جو آتھم نے ساٹھ ۶۰ یا ستر ۷۰ آدمیوں کے رو برو کیا پھر بھی کہا جائے کہ اس نے رجوع نہیں کیا۔تمام مدار غضب الہی کا تو دجال کے لفظ پر تھا (یعنی بنیاد تو اس کی ساری یہ تھی کہ دقبال کہا اور اللہ تعالیٰ کا غضب اسی وجہ سے اس پر نازل ہونا تھا ) اور اسی بناء پر پیشگوئی تھی۔اور اسی لفظ سے رجوع کرنا شرط تھا۔مسلمان ہونے کا پیشگوئی میں کوئی ذکر نہیں۔( یہ تو کہیں پیشگوئی میں نہیں لکھا تھا کہ وہ مسلمان ہو جائے گا۔مقصد یہ تھا کہ اس لفظ سے وہ انکاری ہو جائے گا اور توبہ کر لے گا۔فرماتے ہیں کہ مسلمان ہونے کا پیشگوئی میں کوئی ذکر نہیں ) پس جب اس نے نہایت انکساری سے رجوع کیا تو خدا نے بھی رحمت کے ساتھ رجوع کیا۔الہام الہی کا تو یہ مدعانہیں تھا کہ جبتک آتھم اسلام نہ لاوے ہلاکت سے نہیں بچے گا“۔( یہ تو الہام میں نہیں کہا گیا تھا کہ جب تک اسلام نہیں لائے گا ہلاکت سے نہیں بچے گا۔فرمایا ” کیونکہ اسلام کے انکار میں تو سارے عیسائی شریک ہیں۔خدا اسلام کے لئے کسی پر جبر نہیں کرتا اور ایسی پیشگوئی بالکل غیر معقول ہے کہ فلاں شخص اگر اسلام نہ لا وے تو فلاں مدت تک مرجاوے گا۔“ ( کیونکہ اسلام لانا تو پھر جبر ہو گیا۔یہ تو بہت ساری دنیا ہے جو اسلام نہیں لاتی۔اسلام کو قبول نہیں کرے گی یا نہیں کرتی اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ مر جائے گی۔نہ اسلام میں کوئی جبر ہے اور نہ یہ پیشگوئی کا مقصد تھا۔فرماتے ہیں کہ دنیا ایسے لوگوں سے بھری پڑی ہے جو منکر اسلام ہیں اور جیسا کہ میں بار بارلکھ چکا ہوں محض انکار اسلام سے کوئی عذاب کسی پر دنیا میں نہیں آسکتا بلکہ اس گناہ کی باز پرس صرف قیامت کو ہوگی۔پھر آتھم کی اس میں کونسی خصوصیت تھی کہ بوجہ انکار اسلام اس کی موت کی پیشگوئی کی گئی اور دوسروں کے لئے نہیں کی گئی۔بلکہ پیشگوئی کی وجہ صرف یہ تھی کہ اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان مقدس کی نسبت دقبال کا لفظ استعمال کیا تھا۔جس قول سے اس نے ساٹھ یا ستر انسانوں کے رو برور جوع کیا ، ( تو بہ کی ) جن میں سے