خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 673
خطبات مسرور جلد 12 673 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07 نومبر 2014ء یہ جو عام مالی قربانی ہے اس میں حصہ ڈالنے کے لئے یہ تحریکات ہیں کیونکہ چندہ عام ان کے لئے ضروری نہیں ہے۔لیکن یہ بھی واضح ہو کہ اشاعت اسلام کے کاموں میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے وسعت پیدا ہورہی ہے اور ہوتی چلی جارہی ہے۔اس کے لئے بہر حال ہمیں مالی قربانیوں کی طرف بھی توجہ دینی پڑے گی اور دینی چاہئے۔یہ ایک آدھ معترضین جو ہوتے ہیں بعض دفعہ کسی جماعت میں بھی دوسروں کے دماغوں میں بھی زہر بھرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ان کی معلومات کے لئے صرف میں اتنا بتا دیتا ہوں کہ اس وقت اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایم ٹی اے نے دنیا کے تمام ممالک کو کور (cover) کیا ہوا ہے اور دس سیٹلائٹس کے ذریعہ سے ایم ٹی اے کی نشریات نشر ہو رہی ہیں۔صرف ان سیٹلائٹس کا خرچ علاوہ ایم ٹی اے کے دوسرے اخراجات سٹوڈیو ، عملہ، سامان وغیرہ کے اتنے زیادہ ہیں کہ جب غیروں کے سامنے یہ بتایا جائے کہ اس طرح ہمارے سیٹلائٹس چل رہے ہیں اور بغیر کسی اشتہار کے چل رہے ہیں اور مالی قربانیوں سے چل رہے ہیں تو ان کے لئے ایک حیرت ہوتی ہے کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے۔گوایم ٹی اے کے لئے بھی بعض جماعتیں چندہ دیتی ہیں، لوگ بھی دیتے ہیں لیکن اخراجات کے مقابلے میں وہ آمد بالکل معمولی ہے اور دوسری مذات سے پھر (ضروریات پوری کی جاتی ہیں۔اسی طرح ہم ایم ٹی اے کے لئے اب مختلف ممالک میں سٹوڈیوز بھی بنا رہے ہیں۔پھر اس سال صرف جو مساجد اور سکول اور ہاسپٹل تعمیر کئے گئے یا مرکزی طور پر ان کے اخراجات کئے گئے ، مقامی طور پر نہیں، جو مقامی اخراجات ہیں وہ اس کے علاوہ ہیں، مرکزی طور پر جو اخراجات کئے گئے ہیں وہی تقریباً اس گل رقم کے برابر ہیں جو اس سال تحریک جدید کی رقم ہے۔چندہ عام اور وقف جدید علیحدہ ہے۔صرف تعمیری اخراجات اور دوسرے بے شمار اخراجات ہیں۔بہر حال یہ تو میں نے ایک معمولی ساخا کہ کھینچا ہے۔اگر کسی کے دل میں اعتراض ہے تو بیشک ہوتار ہے۔ہمیں پتا ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑے نظام کے تحت اخراجات کئے جاتے ہیں اور کوشش کی جاتی ہے کہ جتنا بچا یا جائے رقم بچائی جائے اور صحیح طور پر خرچ ہو۔جماعتوں کو بھی مزید احتیاط کرنی چاہئے تاکہ ہم زیادہ سے زیادہ بچت کر کے اللہ تعالیٰ کے کاموں کو مزید وسعت دے دیں۔کم سے کم رقم میں زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکیں۔جیسا کہ میں نے بتایا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ خود مومنین کے دل میں ڈالتا ہے کہ قربانی کرو۔یہ چند مثالیں میں نے دی تھیں۔ہماری کوشش تو اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہوتی۔یہ تحریک اللہ تعالیٰ اس لئے فرماتا ہے کیونکہ اسے پتا ہے کہ دینی ضروریات کیا ہیں اور خود تیار کرتا ہے جیسا کہ میں نے مثال بھی دی تھی کہ