خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 647 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 647

خطبات مسرور جلد 12 66 647 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 اکتوبر 2014ء آپ فرماتے ہیں کہ آپ کے زمانے میں ہندوستان کی ساری قوموں نے آپ کے خلاف شور مچایا اور شدید مخالفت کی مگر ان تمام مخالفتوں کے باوجود ہندوستان میں بھی ہمارے سلسلے نے ترقی کی اور بیرون ممالک میں بھی ہماری جماعتیں قائم ہوئیں۔چنانچہ آج ہمارے مشن دنیا کے تمام ممالک میں اپنا کام کر رہے ہیں۔انگلینڈ ، امریکہ، افریقہ ، چین ، جاپان، جاوا ،سماٹرا اور یورپ کے تمام ممالک میں ہمارے مشن قائم ہیں اور تبلیغ کا کام جاری ہے۔افریقہ کے حبشی تعلیم پارہے ہیں۔امریکہ اور یورپ کے شرک کرنے والے لوگ جوک در جوک اسلام میں داخل ہورہے ہیں۔اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ ہمارے دلوں میں خدا نے اپنے مامور کے ذریعے ایک نیا ایمان پیدا کر دیا ہے جس سے دوسرے لوگ محروم ہیں۔۔۔۔“۔پھر فرماتے ہیں کہ ”ہماری جماعت کے ایک معزز شخص صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب شہید بھی اسی قسم کے لوگوں میں سے تھے ( جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعوی سن کر پہنچے۔وہ حج کیلئے گھر سے نکلے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی دعوت سن کر قادیان آگئے اور بیعت کر لی۔بیعت کے بعد واپس گھر گئے تو افغانستان کے بادشاہ نے ان کو سنگساری کی سزا دی۔صرف اس لئے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کر چکے تھے۔لوگوں نے بہتیرا زور لگایا کہ آپ اپنے عقیدے کو بدل لیں مگر وہ نہ مانے کیونکہ ان پر صداقت کھل چکی تھی۔آخر بادشاہ نے ان کو زمین میں گاڑ کر سنگسار کرا دیا اور نہایت بے رحمی سے شہید کیا مگر انہوں نے اُف تک نہ کی اور خدا کی راہ میں اپنی جان دے دی۔سنگساری سے پہلے ایک وزیر ان کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ تم اپنے دل میں بے شک وہی عقائد رکھو مگر صرف زبان سے ہی انکار کر دو مگر انہوں نے فرمایا میں جھوٹ نہیں بول سکتا۔پس ان کو شہید کر دیا گیا مگر ان کے شہید ہونے کے تھوڑے عرصے بعد ہی افغانستان میں ہیضہ پھوٹا اور ہزاروں لوگ مر گئے۔( اور اب تک دیکھیں وہ تباہی پھیلتی چلی جارہی ہے۔) اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جب لوگوں نے مقابلہ کیا تو آپ کو اللہ تعالیٰ نے دکھا یا کہ ملک میں سخت طاعون پھوٹے گی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور لوگ ہزاروں کی تعداد میں اس کا لقمہ بن گئے۔مگر اس طاعون کے وقت بھی باوجود یکہ طاعون کا پھوٹنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کی تائید میں تھا آپ نے مجسم رحم بن کر خدا کے حضور اس عذاب کو ٹلانے کیلئے نہایت گڑ گڑا کر دعائیں کیں اور اس قدر گریہ وزاری کی کہ مولوی عبد الکریم صاحب جو مسجد مبارک کے اوپر کے حصہ میں رہتے تھے ، فرماتے تھے کہ ایک