خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 646 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 646

خطبات مسرور جلد 12 646 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 اکتوبر 2014ء زمانے میں مخالفت کا یہ حال تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک نوکر پیرانا می تھا جو اتنا بیوقوف تھا کہ سالن میں مٹی کا تیل ملا کر پی جاتا تھا۔حضرت مسیح موعود وعلیہ الصلوۃ والسلام کبھی کبھی کسی کام کیلئے اسے بٹالہ بھیج دیا کرتے تھے۔ایک دفعہ اس کو بٹالہ بھیجا گیا تو وہاں اس کو مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب ملے جو اہل حدیث کے لیڈر مانے جاتے تھے اور بڑے بھاری مولوی سمجھے جاتے تھے ان کا کام ہی یہی تھا کہ وہ ہر اس شخص کو جو بٹالہ سے قادیان آنے والا ہوتا تھا ملتے اور کہتے کہ اس شخص ( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام) نے دکان بنائی ہوئی ہے اور جھوٹا ہے۔تم قادیان جا کر کیا کرو گے۔اس کے باوجود لوگ قادیان آجایا کرتے تھے۔اور مولوی صاحب کے روکنے سے نہ رکتے تھے۔اس دن مولوی صاحب کو اور تو کوئی آدمی نہ ملا پیرا ہی مل گیا۔اس کے پاس جا کر کہنے لگے پیرے تمہیں اس شخص کے پاس نہیں رہنا چاہئے۔کیوں اپنا ایمان خراب کرتا ہے۔وہ بیچارہ ان کی اس قسم کی باتیں نہ سمجھ سکا۔لیکن اس نے اتنا ضرور سمجھا کہ یہ کہہ رہے ہیں کہ مرزا صاحب کے پاس رہنا ٹھیک نہیں ہے۔جب مولوی صاحب ساری بات کر چکے تو کہنے لگا کہ مولوی صاحب! میں تو بالکل جاہل ہوں اور اس قسم کی باتوں کو سمجھ نہیں سکتا۔البتہ اتنا سمجھا ہوں کہ آپ نے کہا ہے کہ مرزا صاحب برے ہیں۔مگر ایک بات تو مجھے بھی نظر آتی ہے کہ آپ ہر روز بٹالہ میں چکر لگا لگا کر لوگوں سے کہتے پھرتے ہیں کہ کوئی شخص قادیان نہ جایا کرے اور دوسرے علاقوں سے آنے والے آدمیوں کو بھی روکتے ہیں اور ورغلاتے رہتے ہیں مگر مجھے تو صاف نظر آتا ہے کہ خدا ان کے ساتھ ہے۔آپ کے ساتھ نہیں۔کیونکہ آپ کی ساری کوششوں کے باوجود لوگ سینکڑوں کی تعداد میں پیدل چل کر قادیان جاتے ہیں مگر آپ کے پاس کبھی کوئی نہیں آیا۔پس اللہ تعالیٰ کے اس قسم کے بندے شروع میں چھوٹے ہی نظر آتے ہیں۔اور دنیا کے ظاہر بین لوگ انہیں حقیر سمجھتے ہیں۔اسی طرح حضرت مسیح موعود د علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی سمجھا گیا۔مگر آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے ، ( حضرت مصلح موعود اس وقت لکھ رہے ہیں کہ ) ہماری جماعت دنیا کے کونے کونے میں پھیل چکی ہے“۔(اور اب تو اللہ کے فضل سے اور بھی زیادہ پھیل چکی ہے۔) " کجا یہ کہ حضرت مسیح موعود وعلیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں آخری جلسہ سالانہ پر سات سو آدمی آئے تھے ( اور جمعہ کے خطبہ میں حضرت مصلح موعود یہ ذکر کر رہے ہیں کہ مسجد اقصٰی میں اس وقت چار ہزار سے بھی زیادہ لوگ شامل ہوئے ہیں۔اور آج تو دنیا کے اس خطبے میں بھی اس وقت اس مسجد میں بھی پانچ چھ ہزار لوگ بیٹھے خطبہ سن رہے ہوں گے۔)