خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 559
خطبات مسرور جلد 12 559 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 ستمبر 2014ء گیمبیا سے ایک صاحب اپنی خواب کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ایک رات جب وہ سور ہے تھے تو خواب میں انہوں نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ آئے اور ان کے ہاتھ کو مضبوطی سے پکڑ کر السلام علیکم ورحمتہ اللہ کہا۔خواب میں انہوں نے اس شخص کو نہیں پہچانا اور پھر خواب ہی میں وہ لوگوں سے پوچھتے ہیں کہ یہ کون ہے؟ تو لوگ بتاتے ہیں کہ یہ جماعت احمدیہ کے امام ہیں اور پھر کہتے ہیں میری آنکھ کھل گئی۔اگلی صبح یہ صاحب ہمارے مشن ہاؤس آئے اور ہمارے معلم کو خواب سنائی تو ہمارے معلم نے ایم۔ٹی۔اے لگایا ہوا تھا۔اس وقت میرا جمعہ کا خطبہ ایم۔ٹی۔اے پر چل رہا تھا۔تو کہتے ہیں مجھے دیکھنے کے بعد انہوں نے کہا کہ کل رات یہی شخص میری خواب میں آیا تھا اور پھر انہوں نے احمدیت قبول کر لی۔نائب ناظر صاحب دعوت الی اللہ قادیان کہتے ہیں کہ یہاں ہنومان گڑھ کا ایک موضع موجہا والی کے ایک دوست لال دین صاحب نے کچھ عرصہ قبل ایک خواب دیکھا کہ ایک فوت شدہ بچہ ہے جو ان کو یہ کہہ رہا ہے کہ آپ کے پاس چار لوگ آئیں گے۔وہ آپ کو دین اسلام کی باتیں بتائیں گے۔آپ ان کی باتیں ماننا اور ان کا ساتھ دینا اور عمل کرنا۔جب ہم لوگ لال دین صاحب کے گھر گئے اور ان کو احمدیت کا پیغام دیا تو انہوں نے ساری باتیں سننے کے بعد کہا کہ آپ لوگوں کے آنے کی اطلاع مجھے پہلے ہی بذریعہ خواب مل گئی تھی اور میں آپ لوگوں کا انتظار کر رہا تھا۔چنانچہ انہوں نے اور ان کے بیٹوں نے اور سارے خاندان نے بیعت کر لی۔قرغیزستان کی ایک لوکل جماعت ہے ایک وہاں کے نو مبائع بہادر صاحب بیان کرتے ہیں کہ 1998ء کی بات ہے کہ خاکسار نماز عصر ادا کر رہا تھا کہ سلام پھیرنے سے کچھ دیر قبل خاکسار پر کشفی کیفیت طاری ہوئی اور میرے دائیں کان میں قرآن کریم کی سورۃ یونس کی یہ آیت تلاوت کی گئی کہ وَاللهُ يَدْعُوا إلى دَارِ السَّلمِ وَيَهْدِى مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ۔(یونس : 26 ) کہ اور اللہ تعالیٰ سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے اور جسے چاہتا ہے اسے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے۔اس کے بعد کہتے ہیں مجھے بتایا گیا کہ اس آیت کی تشریح اور تفسیر تمہیں انڈیا سے ایک استاد آ کے سمجھائے گا۔اس کے بعد یہ کیفیت جاتی رہی۔نماز سے فارغ ہونے کے بعد میں بہت زیادہ حیران اور ششدر تھا کہ مجھ پر یہ کیسی کیفیت ہوئی اور یہ کیا سلوک ہوا ہے کیونکہ میں اس وقت تک انڈیا جیسے ملک کو جانتا نہیں تھا اور نہ ہی نام سنا تھا۔پھر مجھے کام کے سلسلے میں قرغیزستان سے رشیا آنا پڑا۔جب میں یہاں آیا تو کچھ دوستوں سے ملاقات ہوئی۔ان کا تعلق انڈیا سے ہی تھا لیکن جماعت کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا اور ان سے بھی کوئی دینی