خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 558 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 558

خطبات مسرور جلد 12 558 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 ستمبر 2014ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے ہاتھ کھول کر میرے سر پر رکھے تو میں ان سے عرض کرنے لگا کہ سَمْعًا وَ طَاعَةً۔اس کے بعد میں بیدار ہو گیا۔کہتے ہیں اس کے بعد مجھے شرح صدر ہو گیا۔پھر مصر سے علاء صاحب لکھتے ہیں کہ میں مصری نوجوان ہوں۔تقریباً ایک سال قبل ایم۔ٹی۔اے کے ذریعہ سے جماعت سے تعارف ہوا اور فرقہ ناجیہ کا یقین ہو گیا۔میری بیعت قبول کریں۔کہتے ہیں کہ ایک رات میں نے خدا سے رو رو کر استقامت کے لئے کوئی نشان مانگا تو خواب میں خود کو ایک مجلس میں دیکھا جہاں مجھے لکھ رہے ہیں کہ میں نے آپ کو دیکھا اور آپ نے مجھے ایک چاندی کی انگوٹھی درمیانی انگلی میں پہنائی جس پر ایک قرآنی آیت درج تھی۔میں بیدار ہوا تو بہت خوش تھا اور خواب کو احمدیت اور اسلام کے درمیان واسطہ خیال کیا۔پھر سیرالیون سے مبلغ لکھتے ہیں کہ کینیا ریجن کی ایک دور دراز جماعت ٹونگو فیلڈ( Tongo Field) ہے۔اس جماعت کے ارد گرد کے گاؤں میں احمدیت کا پودا نہیں لگا۔اس جماعت کے ساتھ والے گاؤں میں ایک اچھے اخلاق کے مالک نوجوان تھے۔اس گاؤں کے لوگوں نے انہیں اپنے لوکل رواج کے مطابق نوجوانوں کا لیڈر بنانے کے لئے تاج پہنچایا۔وہ نوجوان بیان کرتے ہیں کہ جس رات یہ تاج مجھے پہنایا گیا میں نے خواب میں ایک بڑی اور چھوٹی مسجد دیکھی۔میں بڑی مسجد میں نماز کے لئے جانا چاہتا ہوں۔آواز آتی ہے کہ اگر تم نے دعا قبول کروانی ہے اور اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم کرنا ہے تو اس چھوٹی مسجد میں جاؤ۔جب میں اس چھوٹی مسجد میں جاتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ میرے والد صاحب اس چھوٹی مسجد میں بیٹھے ہوئے ہیں اور مجھے کہتے ہیں کہ بیٹا یہ احمد یہ مسلم جماعت کی مسجد ہے۔اگر اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم کرنا ہے تو صرف اسی مسجد میں آ کر نماز پڑھو اور رابطہ رکھو۔یہ نوجوان کہتے ہیں کہ اس خواب سے پہلے میں جماعت کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا لیکن اس کے بعد میں نے اردگرد کے گاؤں کے لوگوں سے پوچھنا شروع کیا کہ یہاں کوئی احمد یہ مسلم جماعت کی مسجد ہے۔ایک آدمی نے مجھے ٹونگو کی مسجد کے بارے میں بتا یا۔وہاں کے معلم صاحب سے رابطہ کیا اور بیعت کر کے جماعت میں شامل ہو گیا۔اصل چیز اخلاص ہے، کثرت نہیں۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔اللہ تعالیٰ کا فضل جس کے ساتھ ہو۔پس صرف یہ کہنا کہ مسلمانوں کے تمام فرقے ایک طرف اور جماعت احمد یہ ایک طرف۔اس طرف بھی ان کو اشارہ کیا گیا کہ کثرت کو نہ دیکھو یہ دیکھو کہ اللہ تعالیٰ کی تائیدات اور نصرت کہاں ہے اور قبولیت دعا کس طرف زیادہ ہے۔