خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 557
خطبات مسرور جلد 12 557 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 ستمبر 2014ء آنکھ کھل گئی۔میں دو دن پریشان رہا کہ یہ کیسی خواب تھی۔یہ خواب اور وہ بزرگ میرے ذہن سے نہیں نکلتے۔اسی روز مبلغ صاحب نے ان صاحب کو بلایا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفاء کی تصاویر دکھا ئیں تو انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ یہی وہ بزرگ تھے جو مجھے کہہ رہے تھے کہ میرا ہاتھ پکڑ لو تو اندھیرے سے نجات پا جاؤ گے۔مالی کے مبلغ لکھتے ہیں کہ ایک شخص نے احمد یہ مشن ہاؤس فون کیا اور کہا کہ آج سے میں احمدی ہوتا ہوں۔براہ کرم آپ میری بیعت لے لیں۔جب ان سے بیعت کرنے کی وجہ پوچھی تو بتانے لگے کہ مسلمانوں کی موجودہ صورتحال کے باعث میرا کسی فرقے میں شامل ہونے کو دل نہیں کرتا تھا اور میں قرآن کریم وحدیث کی کتابیں پڑھ کر اس پر حتی الوسع عمل کرنے کی کوشش کیا کرتا تھا مگر مسلمانوں کی موجودہ صورتحال پر میرے دل میں ہمیشہ یہ بات تھی کہ خدا اس دین کو اس حالت پر نہیں چھوڑے گا اور مہدی کا ظہور ضرور ہو گا۔اس وقت کو ہی امام مہدی کا وقت خیال کرتا تھا اور اس کے لئے دعا کیا کرتا تھا۔کہتے ہیں کل رات جب میں دعا کرنے کے بعد سویا تو خواب میں دیکھا کہ چاند آسمان سے علیحدہ ہوا ہے اور زمین کی طرف آ رہا ہے۔اور چاند قریب آتے آتے میرے ہاتھ پر آ گیا جس میں سے آواز آ رہی ہے کہ مہدی آ گیا ہے اور وہ پکار پکار کر لوگوں کو بلا رہے ہیں۔پھر کہتے ہیں کہ آپ کا ریڈیو جو ہے وہ بھی یہی اعلان کر رہا ہے کہ جَاءَ الْمَهْدِی جَاءَ الْمَهْدِی۔اس لئے اب کوئی ابہام نہیں ہے اور میں بیعت کرتا ہوں۔گنی کنا کری سے اسینی سوما صاحب کہتے ہیں مجھے ایک احمدی دوست محمد صاحب تبلیغ کر رہے تھے مجھے اطمینان قلب نہیں تھا اور میں مسلسل دعا کر رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ مجھے سیدھا راستہ دکھائے۔اس دوران میں نے خواب میں دیکھا کہ مجھے جس راستے کی طرف بلایا جارہا ہے وہی صحیح راستہ ہے۔اس پر میرا دل مطمئن ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے بیعت کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔پھر جرمنی سے ابراہیم قارون صاحب لکھتے ہیں کہ جماعت کے ساتھ تعارف ہونے کے بعد میں ایم۔ٹی۔اے دیکھنے لگا۔اس کے بعد میں نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کے بارے میں دعا کی اور استخارہ کیا۔ایک دن نماز استخارہ کے بعد میں نے خواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ اپنے محل سے تشریف لا رہے ہیں۔اس محل کی دیواروں سے نور کی کرنیں پھوٹ رہی تھیں۔میں احرام باندھے آپ کے محل کی دہلیز کے پاس کھڑا تھا۔میں نے جھک کر اپنے بازو اپنے گھٹنے پر رکھے۔