خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 556 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 556

خطبات مسرور جلد 12 556 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 ستمبر 2014ء اور دوسرا بعد والا۔اس خواب کے ذریعہ مجھ پر احمدیت کی صداقت واضح ہوگئی۔میں نے خواب مشنری صاحب کو سنائی اور بیعت کر کے احمدیت میں شمولیت اختیار کر لی۔اب یہ تبلیغ بھی کرتے ہیں ان کے ذریعہ سے کئی لوگ احمدیت میں داخل بھی ہوئے ہیں۔پھر بیٹی کے مبلغ ہیں۔کہتے ہیں کہ ہمارے ایک نو مبائع عبد المتعالی صاحب نے بتایا کہ وہ جماعت کے بارے میں تحقیق کر رہے تھے۔فروری 2014 ء کے دوسرے ہفتہ کی بات ہے کہ انہوں نے خواب میں دیکھا کہ گویا ایک دن ہے جو غیر معمولی روشن ہے اور لگتا ہے کہ سورج بہت قریب سے چمک رہا ہے کہ اچانک بہت شدید زلزلہ آتا ہے جس کی وجہ سے دیکھتے ہی دیکھتے تقریبا تمام گھر تباہ ہو جاتے ہیں۔ان کے گھر کا کچھ حصہ بھی گر جاتا ہے۔اس صورتحال کے پیش نظر ان کو خیال آتا ہے کہ میں جا کر احمد یہ مشن ہاؤس دیکھتا ہوں۔وہ خواب میں ہی گھر سے مشن ہاؤس کی طرف نکل پڑتے ہیں۔راستے میں ہر طرف تباہ حال عمارات ہیں۔لوگ سڑکوں پر نکل کر چیخ رہے ہیں۔جب وہ احمد یہ مشن پہنچتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ مشن کی عمارت بالکل صحیح سلامت ہے۔اور مبلغ صاحب بعض دوسرے احمدی احباب کے ساتھ گھر سے باہر کھڑے ہوکر باتیں کر رہے ہیں۔مجھے دیکھ کر کہتے ہیں کہ آئیں sea port جاتے ہیں اور ہم سب جب پورٹ پر پہنچتے ہیں تو ایک سفید رنگ کی کشتی کھڑی ہوتی ہے اور ہم سب احمدی احباب اس میں سوار ہو جاتے ہیں۔اس کشتی میں پہلے سے بھی کچھ احمدی سوار ہوتے ہیں اور ہم اس بڑی سی کشتی کے ذریعہ اپنا سفر سمندر میں شروع کرتے ہیں اس کے بعد خواب ختم ہو جاتا ہے۔کہتے ہیں کہ میرے دل میں یہ بات یقین کی طرح گڑھ گئی کہ اب اگر نجات ہے تو احمدیت کے ذریعہ سے ہی ہے چنانچہ انہوں نے بیعت کر لی۔پھر آسٹریلیا سے ہمارے مبلغ لکھتے ہیں کہ ایک سکھ دوست دیپ اندر صاحب زیر تبلیغ تھے۔جلسہ سالانہ آسٹریلیا میں بھی شامل ہوئے۔کافی تحقیق کے بعد ایک خواب کی بناء پر انہوں نے احمدیت قبول کی۔کہتے ہیں دو ہفتے قبل کے انہوں نے مجھے فون کیا اور آواز بہت بھرائی ہوئی تھی۔بات کرنا مشکل تھا اور رو پڑتے تھے۔انہوں نے بتایا کہ تین دن پہلے خواب دیکھا کہ میں ایک ایسی جگہ پر ہوں جہاں بہت اندھیرا ہے۔اس اندھیرے کی وجہ سے شدید گھبراہٹ ہے ایسا لگتا ہے کہ سانس نہیں آئے گی اور جان نکل جاۓ گی۔سوچتا ہوں اس اندھیرے سے کیسے نکلوں گا اتنے میں اندھیرے میں اچانک روشنی پیدا ہوئی اور اندھیرا روشنی میں بدل گیا۔ایک بزرگ میرے سامنے آ کر کھڑے ہو گئے اور کہا کہ ان اندھیروں سے نکلنا ہے تو میرا ہاتھ پکڑ لو اور اپنا ہاتھ میری طرف بڑھا یا کہ ہاتھ پکڑو۔میں نے جونہی ان کا ہاتھ پکڑا تو میری