خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 555
خطبات مسرور جلد 12 555 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 ستمبر 2014ء فوراً بیعت کر لینی چاہئے اور پھر یہ مجھے خط لکھتی ہیں کہ میرے مضبوطی ایمان اور استقامت کے لئے دعا کریں۔پھر بو آ کے مشن ہاؤس کے پونے عبداللہ صاحب جو کہ مشن ہاؤس کے ڈرائیور کی حیثیت سے خدمت کی توفیق پارہے ہیں کہتے ہیں کہ میری شادی ہوئے دوسال سے زائد کا عرصہ بیت چکا تھا اور کوئی اولاد نہ تھی۔دو سال قبل جب میں نے احمدیت کا نام نیا نیا سنا اور امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی خبر ابھی میرے کانوں تک پہنچی ہی تھی تو میں نے حصول اولاد کے لئے دعا کی کہ اے میرے اللہ ! اے سمیع و علیم خدا !! اگر واقعی مسیح اور مہدی کا ظہور ہو چکا ہے اور مرزا غلام احمد صاحب ہی وہی امام مہدی ہیں تو مجھے اولاد کی نعمت سے بھی مالا مال فرما اور مسیح محمدی علیہ السلام کے غلاموں میں بھی شامل ہونے کی توفیق عطا فرما۔چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول فرمائی اور اسی ماہ میری اہلیہ امید سے ہو گئیں اور اب میری ایک بیٹی بھی ہے اور اس کے بعد پھر اس فیملی نے بیعت بھی کر لی۔اگر بعضوں کو کسی طرح تسلی نہیں ہوتی لیکن حق کے پہچاننے کی خواہش ہے تو اگر وہ خدا تعالیٰ کے آگے خالی الذھن ہو کر گڑ گڑا ئیں اور اللہ تعالیٰ سے رہنمائی چاہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بات فرمائی ہے کہ دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ سیدھے راستہ کی راہنمائی کرے۔اگر نیت نیک ہو تو اللہ تعالی رہنمائی فرماتا ہے اور پھر کسی نہ کسی ذریعہ سے یا خوابوں کے ذریعہ سے رہنمائی ہوتی ہے اور احمدیت کی صداقت ظاہر ہو جاتی ہے۔کچھ خوابوں کے واقعات ہیں۔امیر صاحب گیمبیا لکھتے ہیں کہ ایک جگہ ڈونگے کہے ہے وہاں کے ایک دوست نے کہا کہ جب سے جماعت احمدیہ کا پیغام سنا ہمیشہ اچھا محسوس کیا اور پھر افراد جماعت کا کردار مثالی اور متاثر کن تھا لیکن مجھے ہمیشہ تعجب ہوتا کہ کیا وجہ ہے کہ تمام مسلمان علماء احمدیت کے مخالف ہیں اور یہ تو ہو نہیں سکتا کہ تمام غلط ہوں۔اس لئے جماعت احمدیہ کے دعاوی کے متعلق میں ہمیشہ شک میں رہتا تھا۔مجھے مشورہ دیا گیا کہ معاملہ اللہ پر چھوڑ دو اور دعا کرو تا کہ اللہ تعالیٰ رہنمائی فرمائے۔چنانچہ میں نے دعائیں کرنی شروع کر دیں۔ایک رات خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔آؤ میرے ساتھ چلو۔اس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی تھے۔میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اور ہم نے ایک صحراء عبور کیا۔صحرا عبور کر کے جس جگہ پہنچ رہے تھے وہاں دور سے کچھ لوگ نظر آنے لگ گئے۔جب میں ان لوگوں کے قریب پہنچا تو میں نے واضح طور پر پہچان لیا کہ یہ جماعت احمدیہ کے افراد ہیں۔گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو گروہوں کے ساتھ تھے۔ایک پہلا گروہ تھا