خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 554 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 554

خطبات مسرور جلد 12 554 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 ستمبر 2014ء کرتا ہوں وہاں میری ایک colleague رشین خاتون جو عیسائی تھیں۔ان کے ساتھ مذہب کے متعلق گفتگو ہوئی۔کہتے ہیں گفتگو کے دوران انہوں نے خاکسار سے کہا کہ مجھے اپنے مذہب پر دلی اطمینان نہیں ہے۔انہیں اسلام احمدیت کا تعارف کروایا گیا اور کتاب اسلامی اصول کی فلاسفی، دی گئی تو کہنے لگی کہ مذہب کے بارے میں میرے جتنے بھی سوالات تھے مجھے ان کے جوابات مل گئے اور مجھے تسلی ہو گئی ہے کہ واقعی اسلام حقیقی اور سچا مذ ہب ہے۔اس کے بعد انہوں نے مزید جماعتی کتب کا مطالعہ کیا اور اسلام کی صداقت پر ان کا ایمان مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا گیا۔یہاں تک کہ موصوفہ قادیان بھی گئیں اور بیعت بھی کر لی اور اب نظام وصیت میں بھی شامل ہیں۔پھر ہالینڈ سے ہر جان (Arjan) صاحب جو کہ مذہبا عیسائی تھے اپنی قبولیت کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے خدا تعالیٰ سے تعلق اور اس کی محبت کے حصول کی ہمیشہ تلاش تھی مگر بائبل نے میری کبھی بھی حقیقی رہنمائی نہیں کی۔ایک دن گھر سے نکلنے سے پہلے نہایت دلسوزی سے خدا کے حضور دعا کی کہ مجھے حق کی طرف رہنمائی فرما اور مجھے ایک ایسے وجود سے ملا جو مجھے تجھ سے ملا دے۔یہ دن (ہالینڈ میں ) بادشاہ کی سالگرہ کا دن تھا جب کہ سب لوگ باہر جا کر اپنے اپنے سٹال لگاتے ہیں۔ابھی ایک گھنٹہ بھی نہیں گزرا ہوگا کہ میں احمد یہ جماعت کے ایک بک سٹال سے گزرا۔وہاں مجھے ایک احمدی دوست ملے جنہوں نے مجھے جماعت کا تعارف کروایا اور دیگر جماعتی لٹریچر کے علاوہ اسلامی اصول کی فلاسفی کی کتاب دی۔میں نے گھر جا کر اس کتاب کا مطالعہ کیا تو میری دنیا ہی بدل گئی۔مجھ پر فوراً ظاہر ہو گیا کہ اس کتاب کا مصنف کوئی معمولی انسان نہیں ہے بلکہ خدا سے تعلیم یافتہ انسان ہی ایسی کتاب لکھ سکتا ہے اور اسلام واقعی سچا مذ ہب ہے۔اس کے بعد میں جلسہ سالانہ ہالینڈ اور جلسہ سالانہ جرمنی میں شامل ہوا۔ان روحانی جلسوں نے مجھ پر ایک غیر معمولی اثر ڈالا اور مجھ پر واضح ہو گیا کہ یہ سب کچھ میری دعا کا جواب ہے جو میں نے مانگی تھی۔میرے پاس انکار کی کسی قسم کی کوئی گنجائش نہیں رہی چنانچہ جلسہ جرمنی کے دوران انہوں نے بیعت کر لی۔لیبیا سے ھالہ صاحبہ ہیں کہتی ہیں لیبیا میں قذافی کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد میں نے خدا تعالیٰ سے بہت تضرع سے دعا کی کہ اب تو امام مہدی کو جلد بھیج دے تا کہ حالات کو درست فرمائے۔اس کے بعد اچانک ایک دن چینل بدلتے ہوئے ایم۔ٹی۔اے مل گیا جہاں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر دیکھی جس نے میری تو جہ کو اپنی طرف کھینچا چنانچہ میں اس چینل کے مختلف پروگرام دیکھنے لگی اور عقائد پر اطلاع ہوئی۔اور یہ سلسلہ ایک سال تک جاری رہا۔جس کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ تاخیر کے بغیر