خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 553 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 553

خطبات مسرور جلد 12 553 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 ستمبر 2014ء ہونے والے دلائل اتنے قومی تھے کہ ان کی قوت اور ہیبت سے میرا جسم کانپ اٹھا۔ایسا لگا جیسے جسم میں کوئی بجلی کا کرنٹ لگا ہو۔اس کے بعد مستقل ایم۔ٹی۔اے دیکھنے لگا۔اس کو دیکھتے دیکھتے بے اختیار رونے لگتا لیکن یہ معلوم نہ تھا کہ کیوں روتا ہوں۔یہ احساس غالب تھا کہ خدا تعالیٰ نے خود مجھے اس چینل کی طرف رہنمائی کی ہے۔حضرت مسیح موعود کی صداقت جاننے کے لئے اللہ تعالیٰ سے کثرت سے دعا کرنے لگا۔ہر بار مجھے اس کا جواب جسم پر کپکپی اور ذہنی اطمینان کی صورت میں ملتا۔اس سے تسلی ہو جاتی کہ مسیح موعود علیہ السلام سچے ہیں۔اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا مطالعہ کیا جن میں میرے اکثر سوالات کا جوا ب تھا۔اس کے بعد کہتے ہیں کہ میں بیعت کر کے جماعت کا حصہ بن گیا۔پھر ہالینڈ سے Tom Overgoor صاحب ، قبولیت کے اپنے واقعات کو لکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ میری عمر 22 سال ہے اور یونیورسٹی کا طالب علم ہوں۔میں نے 2014ء کے شروع میں ایمسٹر ڈم میں مسجد بیت الحمود میں بیعت کی۔مجھے ہمیشہ ہی سے دین سے لگاؤ تھا اور ایک خاص عمر میں تو خدا کی ہستی پر ایمان بھی بہت تھا مگر کبھی خاص مذہب کی طرف توجہ نہ تھی۔مجھے روز بروز اس بات کا احساس ہوتا گیا کہ دنیا میں برائی پھیل گئی ہے۔یہ نوجوان ہے اور ان کی سوچ ہے ہمارے نوجوانوں کو بھی سوچنا چاہئے جو بعض پیدائشی احمدی ہیں اور اس بات پر سوچتے ہی نہیں۔کہتے ہیں مجھے روز بروز اس بات کا احساس ہوتا گیا کہ دنیا میں برائی بہت پھیل گئی ہے۔اس بات نے مجھے مجبور کیا اور میں زندگی کے مقصد کی تحقیق میں لگ گیا۔میں نے بہت مطالعہ کیا اور دوستوں سے اس بارے میں گفتگو کی۔اس تحقیق کے دوران میرا دل اسلام کی طرف مائل ہونا شروع ہو گیا۔اس حوالے سے میں اپنے دو احمدی دوستوں کے ساتھ بھی گفتگو کرتا رہا۔ان کے ساتھ نسپیٹ میں جماعتی سینٹر بھی گیا جہاں جماعتی ماحول دیکھا۔اس سے مجھ پر واضح ہو گیا کہ حقیقی اسلام احمدیت ہی ہے اور مجھ پر یہ بھی واضح ہو گیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام حقیقتاً اس دنیا میں آچکے ہیں۔تمام مسلمان اتحاد کی تلاش میں ہیں اور احمدیت ہی وہ واحد سلسلہ ہے جس میں حقیقی اور مضبوط اتحاد ہے اور جس میں حقیقی ایمان کی حلاوت پائی جاتی ہے۔لکھتے ہیں میں نے خلیفہ اسیح کی خدمت میں دعا کا خط لکھا اور خط لکھنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھ پر فضل فرمایا۔اسلام کی حقانیت پورے طور پر مجھ پر واضح ہو گئی اور مسجد محمود جا کر میں نے بیعت کر لی۔میں نماز پڑھنا سیکھ رہا ہوں۔پاکباز زندگی گزارنے کی کوشش کر رہا ہوں۔پھر قرغیزستان سے سلامت صاحب ہیں۔جماعت کے صدر ہیں کہتے ہیں کہ جہاں میں کہ کام