خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 50
خطبات مسرور جلد 12 50 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 جنوری 2014ء تعلق پیدا ہو جائے جو بھی ڈانواڈول ہونے والا نہ ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی بعثت کا یہی مقصد تھا کہ انسانیت کو گناہوں سے بچایا جائے اور اللہ تعالیٰ سے ایک ایسا تعلق پیدا ہو جائے کہ خدا تعالیٰ کی رضا ہر چیز پر مقدم ہو جائے۔عبادت سے بچنے کے بہانے تلاش کرنے کی بجائے یا فرض سمجھ کر جلدی جلدی ادا کرنے کی بجائے ، جس طرح کہ سر سے، گلے سے ایک بوجھ ہے جو اتارنا ہوتا ہے، اُس طرح اتارنے کی بجائے ایک شوق پیدا ہو۔میں اس وقت آپ کے سامنے چند مثالیں بھی پیش کر دیتا ہوں کہ احمدیت نے کیا عملی تبدیلی لوگوں میں پیدا کی؟ ہمارے مبلغ قرغزستان نے لکھا ہے کہ ایک بزرگ احمدی مکرم عمر صاحب، انہوں نے 10 جون 2002ء کو بیعت کی تھی۔اٹھاون برس اُن کی عمر ہے۔پیدائشی مسلمان تھے لیکن کمیونسٹ نظریات کے حامی تھے۔انہوں نے بیعت کے متعلق اپنے جذبات کا اظہار ان الفاظ میں کیا۔کہتے ہیں کہ جس دن خاکسار نے بیعت کے لئے خط لکھا وہ دن در حقیقت میری زندگی کا ایک یادگار دن تھا اور میں اُس دن کو اپنی ایک نئی پیدائش سے تعبیر کرتا ہوں۔اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس سے قبل میں ہر طرح کی دینی جماعتوں کے پاس گیا ، مگر میری زندگی میں کوئی خاص تبدیلی واقع نہ ہو سکی، جبکہ بیعت کے بعد میری زندگی میں حقیقی روحانی انقلاب بر پا ہو گیا تھا۔بیعت سے پہلے نماز میرے لئے ایک بالکل اجنبی چیز تھی۔مگر آج یہ حال ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے پنجوقتہ نماز میری زندگی کا ایک لازمی جزو بن چکی ہے۔اور تہجد میں ناغہ کرنا میرے لئے ایک امر محال ہے اور آج میرا دل اس یقین سے پر ہے کہ جب انسان سچائی کی تلاش میں نکل پڑتا ہے تو اُس کی منزل اُسے ضرور مل جاتی ہے اور اُسی منزل پر پہنچ کر ہی اُس کی حقیقی روحانی تربیت ہوتی ہے اور اُسے ترقی نصیب ہوتی ہے اور یہی وقت دراصل اُس کی قلبی تسکین کا وقت ہوتا ہے۔تو یہ انقلابات ہیں جو لوگوں میں ، نئے آنے والوں میں پیدا ہورہے ہیں۔پھر ہمارے مشنری کو تو نو ، افریقہ سے لکھتے ہیں کہ اور یسو صاحب آرمی میں لیفٹیننٹ کی پوسٹ پر تعینات ہیں۔2013ء میں انہوں نے بیعت کی۔وہ اپنی قبولیت احمدیت کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ میری پیدائش مسلمانوں کی عید کے دن ہوئی تھی۔تو میرے مشرک باپ نے دائی سے کہا کہ اس کا مسلمانوں کا نام رکھو۔وہاں افریقہ میں یہ رواج ہے کہ جس دن پیدا ہو اُس دن کا نام رکھ دیتے ہیں یا اُن خصوصیات کی وجہ سے بعض نام رکھے جاتے ہیں۔تو کہتے ہیں بہر حال عید والے دن میں پیدا ہوا، باپ تو