خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 49
خطبات مسرور جلد 12 49 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 جنوری 2014ء میں عام ہو جائے تو ایک بہت بڑا طبقہ ایسا پیدا ہوسکتا ہے جو گناہ کو بہت حد تک مٹادے گا۔گناہ کو مکمل طور پر مٹانا تو مشکل کام ہے، اس کا دعویٰ تو نہیں کیا جا سکتا لیکن بہت حد تک گناہ پر غالب آیا جا سکتا ہے۔یا اکثر حصہ جماعت کا ایسے لوگوں پر مشتمل ہوگا اور ہو سکتا ہے جو گناہوں پر غالب آجائے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحہ 452-453 خطبہ جمعہ بیان فرمودہ 10 جولائی 1936 مطبوع فضل عمر فاؤنڈیشن ربوہ) پس اس کے لئے ہمارے مربیان اور امراء اور عہدیداران کو اپنے اپنے دائرے میں اصلاح کی کوشش کرنی چاہئے اور یہ بتا کر اصلاح کرنی چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ آپ کی کامل پیروی کرنے والے خدا تعالیٰ کا قرب پانے والے ہوں گے اور ایسے لوگوں کی اکثر دعاؤں کو خدا تعالی سنتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ جماعت میں ایسے لوگ ہیں اور مجھے لکھتے بھی رہتے ہیں۔ایسے لوگوں کے بعض واقعات کا مختلف وقتوں میں ذکر بھی ہوتا رہتا ہے اور میں بھی بیان کرتارہتا ہوں۔پس ایسے واقعات ہیں جو نقل کی تحریک پیدا کرنے والے ہونے چاہئیں نقل اگر کرنی ہے تو ایسے واقعات کوسن کر اپنے اوپر بھی یہ حالت طاری کرنے کے لیے نقل کرنی چاہئے تا کہ خدا تعالیٰ سے قرب کارشتہ قائم ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک موقع پر فرماتے ہیں کہ: دو دنیا میں جس قدر قو میں ہیں کسی قوم نے ایسا خدا نہیں مانا جو جواب دیتا ہو اور دعاؤں کو سنتا ہو کیا ایک عیسائی کہہ سکتا ہے کہ میں نے یسوع کو خدا مانا ہے۔وہ میری دعا کو سنتا اور اس کا جواب دیتا ہے؟ ہرگز نہیں۔بولنے والا خدا صرف ایک ہی ہے جو اسلام کا خدا ہے جو قرآن نے پیش کیا ہے۔جس نے کہا۔اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (المومن : 61) تم مجھے پکارو میں تم کو جواب دوں گا اور یہ بالکل سچی بات ہے۔کوئی ہو جو ایک عرصہ تک سچی نیت اور صفائی قلب کے ساتھ ( یہ چیز اہم ہے جو فرمایا ایک عرصہ تک سچی نیت اور صفائی قلب کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہو۔وہ مجاہدہ کرے اور دعاؤں میں لگا رہے۔آخر اس کی دعاؤں کا جواب اُسے ضرور دیا جاوے گا۔“ (ملفوظات جلد 3 صفحہ 201) پس یہ باتیں بار بار جماعت کے سامنے بیان کی جائیں تو یقیناً اس میں طاقت پیدا ہو سکتی ہے۔یا جماعت کے ایک بھاری حصے میں یہ طاقت پیدا ہوسکتی ہے اور اُس کی قوت ارادی ایسی مضبوط ہو سکتی ہے کہ وہ ہزاروں گناہوں پر غالب آ جائے اور اُن سے ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو جائے اور اللہ تعالیٰ سے ایک ایسا