خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 48
خطبات مسرور جلد 12 48 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 جنوری 2014ء جاتا جس کی وجہ سے احساس پیدا نہیں ہوتا یا اتنا تھوڑ اعلم اور اتنے عرصے بعد دیا جاتا ہے کہ ہم بھول جاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اپنے تازہ بتازہ نشانات آج بھی دکھا رہا ہے۔نتیجہ ہماری اس طرف توجہ نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے جبکہ دنیاوی چیزوں کے لئے ہم آتے جاتے ٹی وی پر، اخبارات پر دس مرتبہ اشتہارات دیکھتے ہیں اور دماغ میں بات بیٹھ جاتی ہے کہ میں نے کسی نہ کسی ذریعہ سے یہ چیز لینی ہے، حاصل کرنی ہے۔اور اگر کسی کو سمجھایا جائے یا کوئی ویسے ہی کہہ دے کہ جب وسائل نہیں ہیں تو اس چیز کی تمہیں کیا ضرورت ہے؟ تو فوراً جواب ملتا ہے کہ کیا غریب کے جذبات نہیں ہوتے ، کیا ہمارے جذبات نہیں ہیں، کیا ہمارے بچوں کے جذبات نہیں ہیں کہ ہمارے پاس یہ چیز ہو۔لیکن یہ جذبات کبھی اس بات کے لئے نہیں ابھرتے کہ الہامات کا تذکرہ سن کر یہ خواہش پیدا ہو کہ ہمارے سے بھی کبھی خدا تعالیٰ کلام کرے۔ہمارے لئے بھی خدا تعالیٰ نشانات دکھائے اور اپنی محبت سے ہمیں نوازے۔اس سوچ کے نہ ہونے کی بڑی وجہ یہی ہے کہ ہمارے علماء، ہمارے مربیان ، ہمارے عہدیداران اپنے اپنے دائرے میں افراد جماعت کے سامنے اللہ تعالیٰ کی محبت کے حصول کی کوشش کے لئے بار بار ذکر نہیں کرتے ، یا اُس طرح ذکر نہیں کرتے جس طرح ہونا چاہئے ، یا اُن کے اپنے نمونے ایسے نہیں ہوتے جن کو دیکھ کر اُن کی طرف توجہ پیدا ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے صحابہ کا بار بار ذکر کر کے اس بارے میں اُن بزرگوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نصرت اور نشانات کے واقعات بھی شدت سے نہیں دہرائے جاتے اور یہ یقین پیدا نہیں کرواتے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات کو کسی خاص وقت اور اشخاص کے لئے مخصوص نہیں کر دیا بلکہ آج بھی اللہ تعالیٰ اپنی صفات کا اظہار کرتا ہے۔اگر بار بار ذکر ہو اور یہ تعلق پیدا کرنے کے طریقے بتائے جائیں، اگر اللہ تعالیٰ کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کئے گئے وعدوں کا ذکر کیا جائے تو بچوں، نوجوانوں میں یہ سوال پیدا نہیں ہوتا کہ خدا تعالیٰ نے ہماری دعا کیوں قبول نہیں کی۔اللہ تعالیٰ سے تعلق کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔پھر دعا کی قبولیت کے فلسفے کی بھی سمجھ آ جاتی ہے اور نشانات بھی ظاہر ہوتے ہیں۔پس یہ بات عام طور پر بتانے کی ضرورت ہے کہ اس زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلامِ صادق سے جڑ کر اللہ تعالیٰ سے قرب کا تعلق پیدا کیا جاسکتا ہے۔نشانات صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات یا زمانے تک محدود نہیں تھے یا مخصوص نہیں تھے بلکہ اب بھی خدا تعالیٰ اپنی تمام تر قدرتوں کے ساتھ جلوہ دکھاتا ہے۔پس نیکیوں کو حاصل کرنے کی تڑپ اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کی تڑپ ہماری جماعت