خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 534
خطبات مسرور جلد 12 534 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 ستمبر 2014ء کہتی ہیں کہ ہر مرد و عورت بوڑھا بچہ بہت پیار اور دوستانہ طریقے سے ملتا تھا۔کسی اسلامک پروگرام میں ایسا نہیں دیکھا۔پس یہ جو غیروں کے اثر ہیں یہ صرف سننے کے لئے نہیں ہیں بلکہ ہمیں ہمیشہ اپنی حالتوں پہ یہ کیفیت طاری رکھنی چاہئے۔پھر تحکیم کے ایک شہر کستار لی (Kasterlee) کے میئر جو فلیمش پارلیمنٹ کے ممبر بھی ہیں، وہ آئے ہوئے تھے۔وہ کہتے ہیں کہ اس جلسے میں شامل ہو کر مجھے اسلام کی اصل تعلیم کے بارے میں آگاہی حاصل ہوئی۔نیز میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ لوگ کس طرح اس تعلیم پر عمل کرتے ہیں۔لوگوں کے آپس میں پیار اور محبت نے مجھے بہت متاثر کیا۔میں نے جماعت کے لوگوں کو صرف لوکل سطح پر دیکھا تھا لیکن جلسہ میں شامل ہو کر عالمی سطح پر بھی جماعت کے لوگوں کو دیکھا ہے اور مشاہدہ کیا ہے کہ جماعت جو کہتی ہے اس پر عمل بھی کرتی ہے۔جلسے کے اس قدر اعلیٰ انتظامات کی مثال کہیں اور نہیں ملتی۔میں یہاں سے اپنے ساتھ پیار اور محبت لے کر واپس جا رہا ہوں۔آپ لوگوں نے مجھے حقیقی اسلام کی تعلیم بتائی ہے۔میں ہیومینٹی فرسٹ اور انجینیئر زایسوسی ایشن کے سٹالوں پر بھی گیا ہوں۔وہاں جا کر مجھے پتا چلا کہ جماعت انسانیت کی کس قدر خدمت کر رہی ہے۔میرے لئے یہ سب باتیں حیران کن تھیں۔میرے دل میں جماعت کی قدر پہلے سے بڑھ گئی ہے۔بھیجیئم کے شہر ٹرن ہاؤٹ کے وائس میئر اور کونسلر جلسہ میں شامل تھے۔کہتے ہیں کہ اسلام کے متعلق جو کچھ ہم نے میڈیا میں دیکھا تھا جلسے میں آکر بالکل اس کے برعکس دیکھا ہے۔اسلام کا جو نقشہ آپ نے پیش کیا ہے وہی حقیقی اسلام ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام کی تعلیم بہت ہی پیاری ہے۔کہتے ہیں آپ اسلام کی حقیقی تعلیم بیان کر کے تمام بنی نوع انسان کو جو ایک جھنڈے کے نیچے جمع کرنا چاہتے ہیں وہ یقیناً ایک بہت بڑی نیکی ہے۔میں نے اپنے شہر میں دیکھا تھا کہ جماعت انسانیت کی خدمت کے لئے کوشاں رہتی ہے لیکن جلسے میں آکر مجھے معلوم ہوا کہ جماعت احمد یہ تو پوری دنیا میں انسانیت کی خدمت کے لئے کوشاں ہے۔میری نظر میں اس وقت دنیا میں کوئی ایسا مذہب نہیں ہے جو انسانیت کی اس حد تک خدمت کر رہا ہو اور دنیا میں پیار اور محبت اور امن کی تعلیم پھیلا رہا ہو۔میں نے جلسے پر ڈیوٹیاں دینے والوں کو بھی دیکھا۔میں اس بات سے بہت متاثر ہوا کہ ڈیوٹیاں دینے والے یہ لوگ مہمانوں کی خدمت کر کے اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتے ہیں۔کہتے ہیں مجھے خیال آیا کہ اگر ہمارے ملک میں بھی لوگ اسی طرح اسی