خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 535
خطبات مسرور جلد 12 535 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 05 ستمبر 2014ء جذبے سے کام کرتے تو ہمارا ملک ان مالی مشکلات سے دوچار نہ ہوتا جن سے آج کل ہم گزررہے ہیں۔پھر تیجیم کے شہر ٹن ہاؤٹ کے وائس میئر کی اہلیہ کہتی ہیں۔میں عورتوں کے جلسے میں بھی گئی۔وہاں مجھے جو پیار اور محبت ملا اس کی مثال میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھی۔جب خلیفہ امسیح عورتوں کے جلسہ گاہ میں آئے تو ایک عجیب ماحول تھا۔اتنی کثیر تعداد میں عورتیں وہاں موجود تھیں لیکن ہر طرف خاموشی تھی۔پھر جب خلیفہ اسیح نے خطاب فرمایا تو ہزاروں کی تعداد میں موجود عورتوں نے مکمل خاموشی کے ساتھ خطاب سنا۔عورتوں کے بارے میں اسلامی تعلیم کے حوالے سے جو سوالات میرے ذہن میں تھے خلیفہ امسیح کے خطاب سے ان سوالوں کے جوابات مل گئے۔پھر کہتی ہیں کہ میں شروع میں جب عورتوں کے جلسہ گاہ میں گئی تھی تو میرے دل میں ایک خوف سا تھا لیکن جب خلیفہ اسیح کا خطاب سننا شروع کیا تو میرا سارا خوف دُور ہو گیا۔سے ایک زیر تبلیغ دوست شو بام میمد Chauboum Ahmad) صاحب تھے کہتے ہیں کہ ایک لمبے عرصے سے احمدیت کا تعارف تھا اور پہلی مرتبہ احمدیوں کے جلسے میں شرکت کی ہے۔جلسے میں جو تین دن گزارے اور سب کچھ دیکھا میں برملا کہتا ہوں کہ احمدیت ہی اسلام کی صحیح تصویر ہے۔میں نے یہاں پر لوگوں کو سجدے میں روتے دیکھا ہے۔اس کا گہرا اثر ہے۔مالٹا سے ایک سوشل ور کر کینتھ کریمونا (Kenneth Cremona) صاحب بھی آئے تھے جو معذور افراد کی دیکھ بھال کا کام کرتے ہیں۔کہتے ہیں جو بات سب سے زیادہ اچھی لگی وہ یہ تھی کہ چھوٹے چھوٹے بچے بھی جماعت کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے تھے اور پانی پلانے کا کام سرانجام دے رہے تھے۔پھر کہنے لگے کہ مجھے یہ بات بڑی اچھی لگی کہ خلیفہ اسیح نے جلسے سے متعلق ہدایات دیتے ہوئے فرمایا کہ اطاعت کریں اور ہر حکم مانیں خواہ یہ حکم، یہ ہدایت کسی چھوٹے بچے کی طرف سے کیوں نہ ہو۔کہنے لگے کہ میں نے جلسہ سے متعلق ہدایات پر مشتمل ایک کتابچہ دیکھا جس میں لکھا تھا کہ کھانا اتنا ہی لیں جتنی ضرورت ہے۔زائد کھا نا ڈال کر ضائع نہ کریں۔یہ پڑھ کر بہت خوشی ہوئی کہ کس طرح چھوٹی چھوٹی بات کا یہ جماعت خیال رکھتی ہے۔اور یہ باتیں لوگ پھر نوٹ بھی کرتے ہیں۔مالٹا سے ایک صحافی اوان بارتولو (Ivan Bartolo) صاحب آئے تھے۔ٹی وی پر ایک پروگرام کی میزبانی بھی کرتے ہیں۔تین سال سے جماعت سے ان کا تعلق ہے۔انہوں نے میرا انٹرویو بھی لیا۔خواہش تھی کہ انٹرویو لیں۔کہتے ہیں کہ میرے لئے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی ہے کہ 125