خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 47
خطبات مسرور جلد 12 47 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 جنوری 2014ء بھی یہ کوشش کرتے ہیں کہ میرے پاس زندگی کی فلاں سہولت بھی موجود ہونی چاہیئے اور فلاں سہولت بھی موجود ہونی چاہئے۔ٹی وی بھی ہو میرے پاس اور فریج بھی ہو میرے پاس کیونکہ فلاں کے پاس بھی ہے۔وہ بھی تو میرے جیسا ہے۔یہ نہیں سوچتے کہ اگر فلاں کو یا زید کو یہ چیزیں اُس کے کسی عزیز نے تحفہ لے کر دی ہیں تو مجھے اس بات پر لالچ نہیں کرنا چاہئے۔فوراً یہ خیال ہوتا ہے کہ زید کے پاس یہ چیز ہے تو میرے پاس بھی ہوا اور پھر قرض کی کوشش ہو جاتی ہے۔یا بعض لوگوں کو اس کام کے لئے بعض جگہوں پر امداد کی درخواست دینے کی بھی عادت ہو گئی ہے۔بیشک جماعت کا فرض ہے کہ اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے ضرورتمند کی ضرورت پوری کرے لیکن درخواست دینے والوں کو ، خاص طور پر پاکستان ، ہندوستان یا بعض اور غریب ممالک بھی ہیں، اُن کو جائز ضرورت کے لئے درخواست دینی چاہئے اور اپنی عزت نفس کا بھی بھرم رکھنا چاہئے۔اسی طرح ذرا بہتر معاشی حالت کے لوگ ہیں تو دیکھا دیکھی وہ بھی بعض چیزوں کی خواہش کرتے ہیں نقل کرتے ہیں۔کسی نئے قسم کا صوفہ دیکھا تو اُس کو لینے کی خواہش ہوئی۔نئے ماڈل کے ٹی وی دیکھے تو اُس کو لینے کی خواہش ہوئی یا اسی طرح بجلی کی دوسری چیزیں یا اور gadget جو ہیں وہ دیکھے تو اُن کو لینے کی خواہش ہوئی۔یا کاریں قرض لے کر بھی لے لیتے ہیں۔ضمنا یہ بھی یہاں بتادوں کہ آجکل دنیا کے جو معاشی بدحالی کے حالات ہیں اُن کی ایک بڑی وجہ بنکوں کے ذریعہ سے ان سہولتوں کے لئے شود پر لئے ہوئے قرض بھی ہیں۔سود ایک بڑی لعنت ہے۔جب چیزیں لینی ہوں تو یہ بھی نہیں دیکھتے کہ یہ اُن کو کہاں لے جائے گا۔بہر حال یہ چیز میں خریدنا یا سود پر قرض دینا ہی ہے جس نے آخر کار بہتوں کو دیوالیہ کر دیا۔بہر حال نقل کی یہ بات ہو رہی تھی کہ لوگ دنیاوی باتوں میں نقل کرتے ہیں اور اُس کے حصول کے لئے یا تو عزت نفس کو داؤ پر لگا دیتے ہیں یا دیوالیہ ہو کر اپنی جائیداد سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔یعنی دنیا وی باتوں کی نقل میں فائدے کم اور نقصان زیادہ ہیں۔لیکن دین کے معاملے میں نقل اور ویسا بننے کی کوشش کرنا جیسا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس زمانے میں ہمارے سامنے نمونہ پیش فرمایا ہے، بلکہ ہم میں سے تو بہت سوں نے اُن صحابہ کو بھی دیکھا ہوا ہے جنہوں نے قرب الہی کے نمونے قائم کئے۔لیکن اُن کی نقل کی ہم کوشش نہیں کرتے جبکہ نقصان کا تو یہاں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ فائدہ ہی فائدہ ہے اور فائدہ بھی ایسا ہے جس کو کسی پیمانے سے نا پا نہیں جاسکتا۔پس کیا وجہ ہے کہ ہم اس نقل کی کوشش نہیں کرتے جو نیکیوں میں بڑھانے والی چیز کی نقل ہے۔صاف ظاہر ہے کہ یا تو ہمیں ان چیزوں کا بالکل ہی علم نہیں دیا