خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 481
خطبات مسرور جلد 12 481 32 خطبه جمعه فرموده مورخه 08 اگست 2014ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 08 اگست 2014ء بمطابق 08 ظہور 1393 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح مورڈن تشہد وتعوذ اور سورہ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ان آیات کی تلاوت فرمائی: ا من يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ۔(النمل: (63 إِلَهُ مَّعَ اللهِ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ اس آیت کا ترجمہ ہے کہ یا پھر وہ کون ہے جو بے قرار کی دعا قبول کرتا ہے جب وہ اسے پکارے اور تکلیف دور کر دیتا ہے اور تمہیں زمین کے وارث بناتا ہے۔کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے؟ بہت کم ہے جو تم نصیحت پکڑتے ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بار بار اپنی جماعت کے افراد کو یہی تلقین فرمائی ہے کہ دعاؤں کی طرف بہت توجہ دو کیونکہ جماعتی ترقی ، جماعت کا غلبہ اور دشمنوں کے مکروں اور ان کی کارروائیوں سے نجات دعاؤں سے ہی ملنی ہے۔آپ نے بڑا واضح فرمایا کہ ہمارا غالب آنے کا ہتھیار دعا ہی ہے۔ماخوذ از ملفوظات جلد 5 صفحه (303) پس جب ہم نے ہر ترقی دعاؤں کے طفیل دیکھنی ہے اور ہر دشمن کو دعاؤں سے زیر کرنا ہے تو پھر دعا کی اس اہمیت کو سامنے رکھتے ہوئے کس قدر توجہ ہمیں دعاؤں کی طرف دینی چاہئے اور اس مقصد کے حصول کے لئے ہم کس قدر توجہ دعاؤں کی طرف دے رہے ہیں۔اس کا اندازہ اور جائزہ ہم میں سے ہر ایک اپنی حالت کو دیکھ کر لگا سکتا ہے اور جائزہ لے سکتا ہے۔