خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 482
خطبات مسرور جلد 12 482 خطبه جمعه فرموده مورخه 08 اگست 2014ء گزشتہ دنوں مجھے ایک عزیز نے اپنی ایک خواب سنائی کہ میں اس عزیز کو کہہ رہا ہوں کہ رمضان بڑی جلدی ختم ہو گیا۔ابھی تو میں نے جماعت سے اور زیادہ دعائیں کروانی تھیں۔اس میں ایک توجہ کا پہلو یہ بھی ہو سکتا ہے اور یقینا ہے کہ رمضان میں جس طرح دعاؤں کی طرف توجہ رہتی ہے اس طرح اب تو جہ نہیں رہے گی جبکہ جماعت کو دعاؤں کی بہت ضرورت ہے۔کیونکہ اس خواب کے سننے سے پہلے ہی میرے دل میں یہ تحریک تھی اور اللہ تعالیٰ نے ڈالا کہ رمضان کے بعد کے خطبے میں بھی دعاؤں کی طرف توجہ دلاؤں۔اس لئے اس شخص کی خواب بھی میری توجہ کی تائید میں ہی تھی۔اس نے مزید اس طرف توجہ دلائی۔اللہ تعالیٰ کا یہی طریق ہے کہ بعض دفعہ بجائے براہ راست واضح توجہ دلانے کے مومنوں کو دوسرے مومنوں کے ذریعہ توجہ دلاتا ہے گو کہ دل میں ڈالا ہوتا ہے۔رمضان کے بعد ہم عموماً دعاؤں کی طرف اس لئے تو جہ نہیں رکھتے ، ان میں وہ شدت نہیں ہوتی جیسی کہ رمضان میں ہوتی ہے۔اس وقت دنیا کے حالات، مسلم امہ کے حالات خاص طور پر فلسطینیوں پر اسرائیل کا جو مسلسل ظالمانہ حملہ ہے جس میں کل تک تو عارضی روک پیدا ہوئی تھی لیکن آج سنا ہے پھر وہ سیز فائر جو ہے وہ ختم ہوگئی اور الزام بہر حال یہی دیا جارہا ہے، اللہ بہتر جانتا ہے حقیقت، کہ فلسطینیوں کی طرف سے پہلے راکٹ حملے کئے گئے۔بہر حال اللہ کرے کوئی ایسی صورت پیدا ہو کہ یہ جنگ بندی مستقل ہو جائے اور ظلم بند ہو۔اور پھر ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کا ایک دوسرے پر ظلم اور گردنیں اڑانا اور قتل و غارت گری اس کی بھی انتہا ہورہی ہے۔اور پھر ظلم کی انتہا ان کلمہ پڑھنے والوں کی طرف سے یہ ہے کہ اللہ اور رسول کے نام پر احمدیوں پر ظلم کر رہے ہیں اور ڈھٹائی سے اس ظلم کو جاری رکھنا چاہتے ہیں اور جاری رکھنے کے بہانے بھی تلاش کرتے ہیں اور بیانات بھی دیئے جاتے ہیں۔ہر سطح پر اور ہر موقع پر احمد یوں کو اذیت دینا اور ان پر ظلم کرنا اب پاکستان میں مُلاں کے زیر اثر غیر احمدیوں کی اکثریت کا یا بہت بڑی تعداد کا شیوہ بن چکا ہے۔اور اگلی نسل میں بچوں میں بھی یہ زہر گھولا جا رہا ہے۔ان کے دماغوں کوز ہر آلود کیا جا رہا ہے۔ان بچوں کے منہ سے بھی اب یہ الفاظ نکلتے ہیں جن کو پتا ہی نہیں کہ دین کیا ہے یا کیا نہیں ؟ یا دشمنی کیا ہوتی ہے کیا نہیں؟ کہ احمدی کا فر ہیں اور ان کو قتل کرنا جائز ہے۔سکولوں میں احمدی اسا تذہ کے ساتھ بچے اس لئے بد تمیزی کرتے ہیں کہ یہ احمدی ہے جو مرضی اس کو کہو۔سکولوں سے نکالنے کی کارروائیاں ہوتی ہیں۔ان سے پڑھنے سے انکار کیا جاتا ہے۔گزشتہ دنوں ہی ایک گاؤں میں چھوٹی سی جگہ پر ایک ٹیچر کے خلاف بچوں نے اور ان کے والدین نے جلوس نکالا، ہڑتال کی کہ ہم نے اس سے نہیں پڑھنا۔یہ قادیانی ہے۔