خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 381 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 381

خطبات مسرور جلد 12 381 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 جون 2014ء واقف نہ تھا، نہ میرا کسی احمدی سے رابطہ تھا۔یہی خواب میرے لئے قبول احمدیت کا موجب بنی۔پھر مراکش کے ایک دوست عبد القادر صاحب کہتے ہیں کہ چھ سال قبل احمدیت سے متعارف ہوا تھا لیکن چند ہفتے قبل احمدیت کی تلاش میں جماعت کے ایک نماز سینٹر پہنچا اور جماعت کا مزید تعارف حاصل کیا اور نمازوں اور جمعوں پر آنا شروع کیا۔مجھے جلسہ سالانہ جرمنی کے لئے دعوت دی گئی۔میں اس میں شامل ہوا جلسہ کا روحانی ماحول دیکھ کر اور خلیفہ وقت سے احباب جماعت کی محبت اور اطاعت دیکھ کر میرے دل میں ایک غیر معمولی تبدیلی آئی کہ یہ یقینا سچوں کی جماعت ہے۔اس پر میں نے جماعت میں داخل ہونے کا فیصلہ کر لیا اور بیعت کر لی۔پھر سویڈن سے عراق کے ایک دوست ہیں۔کہتے ہیں جلسے کا روحانی ماحول دیکھ کر بہت متاثر ہوا۔وہ کہتے ہیں یہی وہ حقیقی اور سچی جماعت ہے جس کی مجھے تلاش تھی اور یہی جماعت احمد یہ میرے سب سوالوں کا جواب ہے اور پھر جلسے پر انہوں نے بیعت کر لی۔حجیم سے ایک غانین دوست عباس صاحب جلسے پر آئے تھے۔کہتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں خدا کو دیکھ رہا ہوں اور خدا تعالیٰ بھی رحمت کی نظر سے مجھے دیکھ رہا ہے۔میں ایک تبلیغی میٹنگ میں گیا اور وہاں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر کو دیکھ کر مجھے یاد آیا کہ یہ تو وہی شخص ہیں جنہیں میں نے خواب میں دیکھا تھا۔میں پوری میٹنگ میں تصویر دیکھ کر روتا رہا اور اب جلسہ سالانہ جرمنی میں شامل ہونے کے لئے آیا ہوں اور میں نے بیعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔میں احمدیت کے ہر مخالف کو کہتا ہوں کہ اگر وہ جلسے کا ماحول دیکھ لیں اور ایک بار آ کر جلسے میں شرکت کر لیں تو میں یقین سے کہتا ہوں کہ وہ مخالفت چھوڑ دیں گے۔پھر ایک مراکشی خاتون بیلجیم سے آئی ہیں۔کہتی ہیں خواب دیکھا کہ امام مہدی آئے ہیں اور ایک چاند کی روشنی کی طرح انہوں نے کہا بشارت ہو، بشارت ہو۔پھر بعد میں خلیفہ اسیح الخامس کو دیکھا جنہوں نے انگریزی میں فرمایا Don't worry۔مجھے کوئی علم نہ تھا کہ یہ بزرگ کون ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تصویر دیکھی تو آپ علیہ السلام ہی تھے جو مجھے خواب میں امام مہدی کے طور پر نظر آئے تھے۔پھر میں جلسہ سالانہ یو کے میں شامل ہوئی تو خلیفہ اسیج کو دیکھ کر یقین نہیں آیا اور آنکھوں سے آنسو رواں تھے کہ یہ وہی شخص تھا جس کو خواب میں میں نے دیکھا تھا اور مجھے یقین ہو گیا کہ یہ سچی اور حقیقی جماعت ہے۔چنانچہ بیعت کر کے جماعت میں شامل ہو گئی۔