خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 380
خطبات مسرور جلد 12 380 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 جون 2014ء پس مسجدوں کے افتتاح کے موقع پر یہ پیغام جو احمد یوں کو دیا جاتا ہے کہ نئے رستے کھلیں گے۔اس طرف بہت توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ہر احمدی کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں جب اس کے علاقے میں کسی مسجد کا افتتاح ہوتا ہے یا مسجد بنتی ہے۔جرمنی میں جلسے کے تیسرے دن اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیعت بھی ہوئی تھی جس میں انیس (19) قوموں کے تراسی (83) لوگوں نے بیعت کی توفیق پائی جو وہاں موجود تھے۔بعض بیعت کرنے والوں کے واقعات بیان کرتا ہوں۔ایک البانین مہمان ایروین صاحب پہلے مسلمان تھے۔انہوں نے بتایا کہ میں نے حدیثوں کی کتاب میں پڑھا تھا۔جب امام مہدی علیہ السلام نازل ہوں گے تو ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ ان کی بیعت میں شامل ہو۔چنانچہ بیعت میں شامل ہو کر ان کی عجیب قلبی کیفیت تھی۔کہتے ہیں دوسری بات جس نے مجھے متاثر کیا وہ ایک کثیر تعداد میں سعید الفطرت روحوں کا خوابوں کے ذریعہ سے خبر پا کر جماعت میں شامل ہونا ہے۔یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ واقعی الہی جماعت ہے اور اللہ تعالیٰ خود دلوں کو اس جماعت کی طرف کھینچ رہا ہے۔پھر ایک مہمان حیدر صاحب بیان کرتے ہیں کہ ایک خواب کے ذریعہ احمدیت قبول کی۔انہوں نے بیان کیا کہ چند سال قبل جبکہ انہیں جماعت کے بارے میں کوئی معلومات نہیں تھیں ایک رات انہوں نے خواب دیکھا کہ وہ دوست کے ہمراہ ہیں اور اس وقت انہیں اذان کی آواز سنائی دیتی ہے چنانچہ وہ اور ان کے ایک دوست نماز پڑھنے کے لئے ایک پہاڑ پر چڑھنے لگتے ہیں۔غالباً پہاڑ کی چوٹی پر نماز پڑھائی جاتی ہے۔جب وہ بلندی پر پہنچتے ہیں تو وہاں انہیں مختلف داڑھیوں والے افراد نظر آتے ہیں جو ایک دوسرے کو دھکا دے رہے ہیں اور مار پیٹ کر رہے ہیں۔کہیں آگ لگی ہوئی ہے اور ایک عجیب خوفناک صورتحال ہے۔اس پر حیدر صاحب اپنے دوست سے کہتے ہیں کہ یہاں سے نکلو ورنہ یہ لوگ ہمیں بھی مار دیں گے۔چنانچہ وہ وہاں سے روانہ ہوتے ہیں اور تھوڑی ہی دوری پر انہیں ایک سرسبز و شاداب وادی نظر آتی ہے جو چاروں طرف سے خوبصورت تناور درختوں سے گھری ہوئی ہے۔اس وادی میں سفید لباس میں ملبوس نمازیوں کی ایک کثیر تعداد انتہائی نظم وضبط کے ساتھ نماز کے لئے صف آراء ہے اور ان کے سامنے ایک شخص کھڑا ہے جو ان کی امامت کرا رہا ہے۔میں اپنے دوست سے پوچھتا ہوں کہ یہ کون لوگ ہیں؟ وہ بتاتا ہے کہ یہ احمدی لوگ ہیں اور اتنے میں میری آنکھ کھل گئی۔اس وقت میں جماعت کے نام سے بھی