خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 382 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 382

خطبات مسرور جلد 12 382 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 جون 2014ء پھر فرانس سے ایک دوست آئے ہوئے تھے۔کہتے ہیں میں عیسائی فیملی میں پیدا ہوا ہوں۔میں کوئی مذہبی پریکٹس نہیں کرتا۔جب اپنے ماں باپ کے کہنے پر چرچ میں گیا تو سامنے حضرت عیسی علیہ السلام کا بت رکھا تھا۔مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ خدا کی عبادت کروں یا اس بت کی عبادت کروں۔چنانچہ جس احمدی دوست سے رابطہ ہوا، انہوں نے مجھے جماعت کا تعارف کروایا اور معلومات مہیا کیں۔اسلامی اصول کی فلاسفی پڑھنے کیلئے دی۔جلسہ میں شامل ہوا۔امام جماعت کا خطاب سنا اور میرے دل کی حالت بدل گئی اور میں جلسہ کے تیسرے دن بیعت کر کے احمدیت میں داخل ہو گیا ہوں۔یہ مقامی فرانسیسی ہیں۔ہنگری سے آنے والے وفد کے انچا رج صداقت صاحب کہتے ہیں کہ جرمنی میں ایک فیملی تھی۔ان سے انٹرنیٹ پر رابطہ تھا۔انہیں جلسے پر آنے کی دعوت دی تو اسلام کے بارے میں کیونکہ اچھا تا ثر نہیں رکھتے تھے اس لئے انہوں نے پہلے تو انکار کیا۔لیکن بہر حال پھر تسلی دلائی تو اس پر وہ آگئے اور تینوں دن جلسے میں شامل ہوئے اور میرا خطبہ جمعہ بھی انہوں نے سنا اور بہت غور سے سنا اور بڑے متاثر ہوئے۔پھر نماز کے ماحول کو دیکھا۔اس نے بھی انہیں بہت متاثر کیا کہ اس طرح کا ماحول انہوں نے زندگی میں پہلی مرتبہ دیکھا ہے۔اس کے بعد شام کو ان کی مجھ سے ملاقات تھی جس میں یہ بہت متاثر ہوئے۔انہوں نے بتایا کہ میں عیسائی پادریوں سے بھی ملتا رہتا ہوں لیکن ان کی باتوں کا کچھ بھی اثر نہیں کیونکہ میں ان کی باتیں ایک کان سے سنتا ہوں دوسرے سے نکال دیتا ہوں لیکن خلیفہ وقت کے الفاظ میرے دل میں اتر رہے تھے۔پھر کہتے ہیں کہ اسی روز رات انہوں نے اپنے بیٹے کو فون کر کے ساری تفصیل بتائی کہ جماعت احمدیہ کے سربراہ نے انہیں وقت دیا اور بڑی شفقت اور پیار سے ہم سے باتیں کیں اور ہمیں بین وغیرہ دیا اور آخر میں ہاتھ پکڑ کر تصویر کھنچوائی۔ہفتہ کے دن ان کی اہلیہ عورتوں کی جلسہ گاہ میں چلی گئیں۔عورتوں کی جلسہ گاہ کے انتظامات دیکھ کر بہت متاثر ہوئیں۔ظہر اور عصر کی نمازیں بھی احمدی خواتین کو دیکھ کر ان کی طرح ادا کرتی رہیں۔پھر یہ کہتے ہیں ان کا مبلغین سے بھی رابطہ رہا۔مختلف مبلغین کے ساتھ ان کی سٹنگز (sittings) بھی ہوئیں جس میں انہیں اسلام اور احمدیت کے بارے میں تفصیل سے بتایا گیا۔موصوف نے بتایا کہ ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات تقریباً دو بجے اپنے ہوٹل میں جہاں یہ رہائش پذیر تھے انہیں کمرے میں میری آواز آئی کہ جس طرح میں نماز پڑھا رہا ہوں۔تو کہتے ہیں میں نے آواز سنی اور اٹھ کر بیٹھ گیا اور اٹھنے پر انہیں آواز سنائی دیتی رہی۔کہتے ہیں میں نے اپنی بیوی کو اٹھایا اور اسے خواب کے بارے