خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 275 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 275

خطبات مسرور جلد 12 وو 275 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 مئی 2014ء کے نزدیک وہ ایک قابل قدر شئے ہو جاوے گا۔اگر یہ درد اس کے دل میں نہیں ہے اور صرف دنیا اور اس کے مافیہا کا ہی درد ہے تو آخر تھوڑی سی مہلت پا کر وہ ہلاک ہو جاوے گا۔خدا تعالیٰ مہلت اس لیے دیتا ہے کہ وہ حلیم ہے لیکن جو اس کے علم سے خود ہی فائدہ نہ اٹھاوے تو اُسے وہ کیا کرے۔پس انسان کی سعادت اسی میں ہے کہ وہ اس کے ساتھ کچھ نہ کچھ ضرور تعلق بنائے رکھے۔سب عبادتوں کا مرکز دل ہے۔اگر عبادت تو بجالاتا ہے مگر دل خدا کی طرف رجوع نہیں ہے تو عبادت کیا کام آوے گی۔اس لیے دل کا رجوع تام اس کی طرف ہونا ضروری ہے۔( دل کا مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہونا ضروری ہے۔) اب دیکھو کہ ہزاروں مساجد ہیں۔مگر سوائے اس کے کہ ان میں رسمی عبادت ہو اور کیا ہے؟ ایسے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت یہودیوں کی حالت تھی کہ رسم اور عادت کے طور پر عبادت کرتے تھے اور دل کا حقیقی میلان جو کہ عبادت کی رُوح ہے ہر گز نہ تھا۔اس لئے خدا تعالیٰ نے ان پر لعنت کی۔پس اس وقت بھی جو لوگ پاکیزگی قلب کی فکر نہیں کرتے تو اگر رسم و عادت کے طور پر وہ سینکڑوں ٹکریں مارتے ہیں ان کو کچھ فائدہ نہ ہوگا۔اعمال کے باغ کی سرسبزی پاکیزگی قلب سے ہوتی ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ فرماتا بے قد أَفْلَحَ مَنْ زَكَّهَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَشْهَا (الشمس : 10۔11 ) کہ وہی با مراد ہو گا جو کہ اپنے قلب کو پاکیزہ کرتا ہے اور جو اُ سے پاک نہ کرے گا بلکہ خاک میں ملاد ریگا یعنی سفلی خواہشات کا اُسے مخزن بنارکھے گا وہ نامرادر ہے گا۔اس بات سے ہمیں انکار نہیں ہے کہ خدا کی طرف آنے کے لئے ہزار ہا روکیں ہیں۔اگر یہ نہ ہو تیں تو آج صفحہ دنیا پر نہ کوئی ہندو ہوتا نہ عیسائی۔سب کے سب مسلمان نظر آتے لیکن ان روکوں کو دُور کرنا بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے ہوتا ہے۔وہی توفیق عطا کرے تو انسان نیک و بد میں تمیز کر سکتا ہے۔اس لئے آخر کار بات پھر اسی پر آٹھہرتی ہے کہ انسان اسی کی طرف رجوع کرے تا کہ قوت اور طاقت دیوے۔( ملفوظات جلد 7 صفحہ 289 290) پھر قرب الہی حاصل کرنے کے لئے تو بہ کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ بخوبی یا درکھو کہ گناہ ایسی زہر ہے جس کے کھانے سے انسان ہلاک ہو جاتا ہے اور نہ صرف ہلاک ہی ہوتا ہے بلکہ وہ خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے سے رہ جاتا ہے اور اس قابل نہیں ہوتا کہ یہ نعمت اس کومل سکے۔جس جس قدر گناہ میں مبتلا ہوتا ہے اسی اسی قدر خدا تعالیٰ سے دور ہوتا چلا جاتا ہے اور وہ روشنی اور نور جو خدا تعالیٰ کے قرب میں اسے ملنی تھی اس سے پرے ہٹتا جاتا ہے اور تاریکی میں پڑ کر ہر طرف سے