خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 274
خطبات مسرور جلد 12 274 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 مئی 2014ء کسی نہ کسی دکھ اور تردد میں ہوتا ہے، مگر جس قدر قرب الہی حاصل کرتا جاتا ہے اور تخلقُوا بِأَخْلَاقِ اللهِ سے رنگین ہوتا جاتا ہے، اسی قدر اصل سکھ اور آرام پاتا ہے جس قدر قرب الہی ہوگا لازمی طور پر اسی قدر خدا کی نعمتوں سے حصہ لے گا اور رفع کے معنے اسی پر دلالت کرتے ہیں۔“ ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 137 ) خدا کا قرب پانے کی کوشش کرنے والوں کے انجام کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ”جو شخص اپنے وجود کو خدا کے آگے رکھ دے اور اپنی زندگی اس کی راہوں میں وقف کرے اور نیکی کرنے میں سرگرم ہو سو وہ سر چشمہ قرب الہی سے اپنا اجر پائے گا اور ان لوگوں پر نہ کچھ خوف ہے نہ کچھ غم۔یعنی جو شخص اپنے تمام قومی کو خدا کی راہ میں لگا دے اور خالص خدا کے لئے اس کا قول اور فعل اور حرکت اور سکون اور تمام زندگی ہو جائے۔اور حقیقی نیکی بجالانے میں سرگرم رہے، سو اس کو خدا اپنے پاس سے اجر دے گا اور خوف اور حزن سے نجات بخشے گا۔“ ( سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب ، روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 344 ) پھر دعا جو قرب الہی کا ذریعہ ہے اس کے بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ دعا کی مثال ایک چشمہ شیریں کی طرح ہے جس پر مومن بیٹھا ہوا ہے۔وہ جب چاہے اس چشمہ سے اپنے آپ کو سیراب کر سکتا ہے جس طرح ایک مچھلی بغیر پانی کے زندہ نہیں رہ سکتی اسی طرح مومن کا پانی دعا ہے کہ جس کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتا۔اس دعا کا ٹھیک محل نماز ہے۔( دعا کی جو صحیح جگہ ہے وہ نماز ہے۔یہی حقیقت میں صحیح دعا ہو سکتی ہے۔فرمایا کہ جس میں وہ راحت اور سرور مومن کو ملتا ہے۔نماز میں راحت اور سرور مومن کو ملتا ہے ) کہ جس کے مقابل ایک عیاش کا کامل درجہ کا سرور جو اُسے کسی بد معاشی میں میسر آ سکتا ہے، بیج ہے۔بڑی بات جو دعا میں حاصل ہوتی ہے وہ قرب الہی ہے۔دُعا کے ذریعہ ہی انسان خدا تعالیٰ کے نزدیک ہو جاتا اور اسے اپنی طرف کھینچتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد 7 صفحہ 59) پس قرب الہی حاصل کرنے کے لئے نمازوں کا حق ادا کرنا بھی ضروری ہے اور وہ حق تبھی ادا ہو گا جب اس کی ادائیگی باقاعدہ کی جائے اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرما یا اس طرح کی جائے۔پھر نمازوں اور دعاؤں کے معیار کی طرف توجہ دلاتے ہوئے مزید آپ فرماتے ہیں کہ انسان کے دل میں خدا تعالیٰ کے قرب کے حصول کا ایک درد ہونا چاہئے جس کی وجہ سے اس