خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 276
خطبات مسرور جلد 12 وو 276 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 مئی 2014ء آفتوں اور بلاؤں کا شکار ہو جاتا ہے۔یہانتک کہ سب سے زیادہ خطر ناک دشمن شیطان اس پر اپنا قابو پالیتا ہے اور اُسے ہلاک کر دیتا ہے۔لیکن اس خطرناک نتیجہ سے بیچنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک سامان بھی رکھا ہوا ہے۔اگر انسان اس سے فائدہ اٹھائے تو وہ اس ہلاکت کے گڑھے سے بچ جاتا ہے اور پھر خدا تعالیٰ کے قرب کو پا سکتا ہے۔وہ سامان کیا ہے؟ رجوع الی اللہ یا سچی توبہ۔( یہ سچی تو بہ وہ سامان ہے۔فرمایا کہ خدا تعالیٰ کا نام تو اب ہے۔وہ بھی رجوع کرتا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ انسان جب گناہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ سے دُور ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ اس سے بعید ہوتا ہے۔( گناہ کرتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ سے دور ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے دور ہو جاتا ہے۔لیکن جب انسان رجوع کرتا ہے یعنی اپنے گناہوں سے نادم ہو کر پھر خدا تعالیٰ کی طرف جھکتا ہے تو اس کریم رحیم خدا کا رحم اور کرم بھی جوش میں آتا ہے اور وہ اپنے بندہ کی طرف توجہ کرتا ہے اور رجوع کرتا ہے۔اس لئے اس کا نام اللہ تعالیٰ کا نام بھی تواب ہے۔(وہ بھی بندے کی طرف توبہ قبول کرتے ہوئے آتا ہے اس لئے اس کا نام تو اب ہے۔)۔پس انسان کو چاہئے کہ اپنے رب کی طرف رجوع کرے تا کہ وہ اس کی طرف رجوع برحمت کرے۔“ وو ( ملفوظات جلد 7 صفحہ 183 184 ) پھر آپ فرماتے ہیں: اسلام وہی طریق نجات بتاتا ہے جو در حقیقت خدا تعالیٰ کی طرف سے ازل سے مقرر ہے اور وہ یہ ہے کہ سچے اعتقاد اور پاک عملوں اور اس کی رضا میں محو ہونے سے اس کے قرب کے مکان کو تلاش کیا جائے اور کوشش کی جائے کہ اس کا قرب اور اس کی رضا حاصل ہو کیونکہ تمام عذاب خدا تعالیٰ کی دوری اور غضب میں ہے پس جس وقت انسان کچی تو بہ اور سچے طریق کے اختیار کرنے سے اور کچی تابعداری حاصل کرنے سے اور سچی توحید کے قبول کرنے سے خدا تعالیٰ سے نزدیک ہو جاتا ہے اور اس کو راضی کر لیتا ہے تو تب وہ عذاب اس سے دور کیا جاتا ہے۔“ ست بچن، روحانی خزائن جلد 10 صفحه 275) پھر قرب الہی کے حصول کے لئے عمومی طور پر اعمال صالحہ بجالانے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ و عمل صالح بڑی ہی نعمت ہے۔خداوند کریم عمل صالح سے راضی ہو جاتا ہے اور قرب حضرت احدیت حاصل ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔مگر جس طرح شراب کے آخری