خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 269 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 269

خطبات مسرور جلد 12 269 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 مئی 2014ء اسلام کی حقیقت یہ ہے کہ اپنی گردن خدا کے آگے قربانی کے بکرے کی طرح رکھ دینا۔اور اپنے تمام ارادوں سے کھوئے جانا اور خدا کے ارادہ اور رضا میں محو ہو جانا۔اور خدا میں گم ہو کر ایک موت اپنے پر وارد کر لینا اور اس کی محبت ذاتی سے پورا رنگ حاصل کر کے محض محبت کے جوش سے اس کی اطاعت کرنا نہ کسی اور بنا پر۔اور ایسی آنکھیں حاصل کرنا جو محض اس کے ساتھ دیکھتی ہوں۔اور ایسے کان حاصل کرنا جو محض اس کے ساتھ سنتے ہوں۔اور ایسا دل پیدا کرنا جو سراسر اس کی طرف جھکا ہوا ہو۔اور ایسی زبان حاصل کرنا جو اس کے بلائے بولتی ہو۔یہ وہ مقام ہے جس پر تمام سلوک ختم ہو جاتے ہیں اور انسانی قوی اپنے ذمہ کا تمام کام کر چکتے ہیں۔سلوک کا مطلب یہ ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کو پانے کے لئے کوشش کر کے ہر قسم کی مشکلات میں سے بھی گزرے اور خدا تعالیٰ کو حاصل کرنے کی کوشش کرے۔) پھر فرمایا اور پورے طور پر انسان کی نفسانیت پر موت وارد ہو جاتی ہے تب خدا تعالیٰ کی رحمت اپنے زندہ کلام اور چمکتے ہوئے نوروں کے ساتھ دوبارہ اُس کو زندگی بخشتی ہے اور وہ خدا کے لذیذ کلام سے مشرف ہوتا ہے اور وہ دقیق در دقیق نور جس کو عقلیں دریافت نہیں کر سکتیں اور آنکھیں اس کی گنہ تک نہیں پہنچتیں وہ خود انسان کے دل سے نزدیک ہو جاتا ہے۔جیسا کہ خدا فرماتا ہے۔نَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ (ق: 17)۔یعنی ہم اس کی شاہ رگ سے بھی زیادہ اُس سے نزدیک ہیں۔پس ایسا ہی وہ اپنے قرب سے فانی انسان کو مشرف کرتا ہے۔تب وہ وقت آتا ہے کہ نابینائی دور ہو کر آنکھیں روشن ہو جاتی ہیں اور انسان اپنے خدا کو ان نئی آنکھوں سے دیکھتا ہے۔اور اُس کی آواز سنتا ہے اور اس کی ٹور کی چادر کے اندر اپنے تئیں لپٹا ہوا پاتا ہے۔تب مذہب کی غرض ختم ہو جاتی ہے اور انسان اپنے خدا کے مشاہدہ سے سفلی زندگی کا گندہ چولہ اپنے وجود پر سے پھینک دیتا ہے۔( جوگندی زندگی ہے، گندہ چولہ ہے، اس گندگی کا، دنیاوی چیزوں کا جو لباس پہنا ہوا ہے، وہ انسان پھینک دیتا ہے۔جب اُسے اللہ تعالیٰ کا اتنا قرب حاصل ہو جائے۔اور ایک نور کا پیراہن پہن لیتا ہے۔ایک نیا لباس پہنتا ہے جو نور ہوتا ہے اور نہ صرف وعدہ کے طور پر اور نہ فقط آخرت کے انتظار میں خدا کے دیدار اور بہشت کا منتظر رہتا ہے بلکہ اسی جگہ اور اسی دنیا میں دیدار اور گفتار اور جنت کی نعمتوں کو پالیتا ہے۔“ لیکچر لا ہور ، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 160 - 161 ) پھر استغفار کی دو قسموں کا ذکر فرماتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ ”استغفار جس کے ساتھ ایمان کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں قرآن شریف میں دو معنے پر آیا ہے۔