خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 270 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 270

خطبات مسرور جلد 12 270 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 مئی 2014ء ایک تو یہ کہ اپنے دل کو خدا کی محبت میں محکم کر کے گناہوں کے ظہور کو جو علیحدگی کی حالت میں جوش مارتے ہیں خدا تعالیٰ کے تعلق کے ساتھ روکنا اور خدا میں پیوست ہو کر اس سے مدد چاہنا یہ استغفار تو مقربوں کا ہے۔ہر وقت استغفار اس لئے چاہنا کہ ایک دل میں خدا ہی ہر وقت یادر ہے اور انسان اللہ تعالیٰ کی محبت میں مضبوط ہوتا جائے۔یہ استغفار تو مقربوں کا ہے۔جو ایک طرفتہ العین خدا سے علیحدہ ہونا اپنی تباہی کا موجب جانتے ہیں ، یعنی ایک لمحہ کے لئے بھی خدا سے علیحدہ ہونا سمجھتے ہیں کہ ہماری تباہی ہو جائے گی۔اس لئے استغفار کرتے ہیں تا خدا اپنی محبت میں تھامے رکھے۔اور دوسری قسم استغفار کی یہ ہے کہ گناہ سے نکل کر خدا کی طرف بھاگنا اور کوشش کرنا کہ جیسے درخت زمین میں لگ جاتا ہے ایسا ہی دل خدا کی محبت کا اسیر ہو جائے تا پاک نشو و نما پا کر گناہ کی خشکی اور زوال سے بچ جائے اور ان دونوں صورتوں کا وو نام استغفار رکھا گیا۔“ سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب، روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 346_347) اس بات کی وضاحت فرماتے ہوئے کہ خدا تعالیٰ کی پہچان کے کئی مرتبے ہیں۔مگر سب سے اعلیٰ مرتبہ قرب الہی کا ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی صحیح رنگ میں پہچان ہوتی ہے۔اس لئے صرف اس بات پر خوش نہیں ہو جانا چاہئے کہ میں نے کچی خوابیں دیکھ لی ہیں یا کوئی کشف مجھے ہو گیا یا الہام ہو گیا۔الہام تو بلتم کو بھی ہو گیا تھا لیکن اس نے اس کے باوجود ٹھوکر کھائی۔اس لئے قرب کی تلاش کرو اور قرب خدا تعالیٰ کے برگزیدہ سے جڑ کر ہی ملتا ہے جس سے مسلسل اللہ تعالیٰ اس کو اپنے نور سے فیضیاب فرما تا رہتا ہے اور پھر خدا تعالیٰ کی رضا بندے کا مقصود ہو جاتی ہے۔فرماتے ہیں کہ خدا نور ہے جیسا کہ اس نے فرمایا اللهُ نُورُ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ ( النور : 36)۔پس وہ شخص جوصرف اس نور کے لوازم کو دیکھتا ہے وہ اس شخص کی مانند ہے جو دور سے ایک دھواں دیکھتا ہے مگر آگ کی روشنی نہیں دیکھتا اسلئے وہ روشنی کے فوائد سے محروم ہے۔(روشنی کے فوائد تو صرف اللہ تعالیٰ کی رضا میں ڈوب جانے سے ملتے ہیں)۔فرمایا کہ اور نیز اس کی گرمی سے بھی جو بشریت کی آلودگی کو جلاتی ہے۔فوائد سے بھی محروم ہے اور نیز اس کی گرمی سے بھی جو بشریت کی آلودگی کو جلاتی ہے۔انسان کے بشری تقاضے ہونے کے جو بعض گند ہیں جنہوں نے اس کوگھیرا ہوا ہے، اس گرمی سے بھی محروم رہتا ہے، اس آگ سے محروم رہتا ہے جو ان گندوں کو جلاتی ہے۔فرمایا کہ پس وہ لوگ جو صرف منقولی یا معقولی دلائل یا ظنی الہامات سے خدا تعالیٰ کے وجود پر دلیل پکڑتے ہیں جیسے علماء ظاہری یا جیسے فلسفی لوگ