خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 268
خطبات مسرور جلد 12 268 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 مئی 2014ء ان کو اپنے اس خاص چشمہ سے پلاتا ہے ( یعنی اخلاق کا، روحانیت کا ایک میٹھا پانی پلاتا ہے۔) (براہین احمدیہ ، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 542۔541 حاشیہ در حاشیہ نمبر 3) پھر ایک جگہ قرب الہی کے طریق کے بارے میں فرمایا کہ ” خدا تعالیٰ دھوکا کھانے والا نہیں۔وہ انہیں کو اپنا خاص مقرب بناتا ہے جو مچھلیوں کی طرح اس کی محبت کے دریا میں ہمیشہ فطرتاً تیرنے والے ہیں اور اسی کے ہو رہتے ہیں اور اسی کی اطاعت میں فنا ہو جاتے ہیں۔پس یہ قول کسی بچے راستباز کا نہیں ہوسکتا۔( جو بعض مذہبوں کے بعض لوگوں کا اس کے بارہ میں نظریہ ہے۔( " کہ خدا تعالیٰ کے سوا در حقیقت سب گندے ہی ہیں اور کوئی نہ کبھی پاک ہوا نہ ہوگا۔فرمایا: گویا خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں کو عبث پیدا کیا ہے بلکہ سچی معرفت اور گیان کا یہ قول ہے کہ نوع انسان میں ابتدا سے یہ سنت اللہ ہے کہ وہ اپنی محبت رکھنے والوں کو پاک کرتا رہا ہے۔ہاں حقیقی پا کی اور پاکیزگی کا چشمہ خدا تعالیٰ ہی ہے۔جو لوگ ذکر اور عبادت اور محبت سے اس کی یاد میں مصروف رہتے ہیں خدا تعالیٰ اپنی صفت ان پر بھی ڈال دیتا ہے تب وہ بھی اس پا کی سے ظلی طور پر حصہ پالیتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی ذات میں حقیقی طور پر موجود ہے“ ست بچن ، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 210) پھر آپ نے فرمایا کہ یہ اخلاق فاضلہ اور نیکیاں اور خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا جو وسیلہ اور نمونہ اور تعلیم خدا تعالیٰ نے ہمارے سامنے رکھی ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع ہے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ ”ہمارا اس بات پر بھی ایمان ہے کہ ادنی درجہ صراط مستقیم کا بھی بغیر اتباع ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہرگز انسان کو حاصل نہیں ہو سکتا چہ جائیکہ راہ راست کے اعلیٰ مدارج بجز اقتدا اس امام الرسل کے حاصل ہو سکیں کوئی مرتبہ شرف و کمال کا اور کوئی مقام عزت اور قرب کا بجز سچی اور کامل متابعت اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم ہرگز حاصل کر ہی نہیں سکتے۔ہمیں جو کچھ ملتا ہے ظلی اور طفیلی طور پر ملتا ہے“ (ازالہ اوہام حصہ اوّل، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 170) پھر اسلام کی حقیقت کیا ہے اور ایک مسلمان کو کیسا ہونا چاہئے اور ایک مسلمان کو خدا تعالیٰ کا قرب کس معیار تک پہنچاتا ہے، آپ فرماتے ہیں کہ