خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 265 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 265

خطبات مسرور جلد 12 265 18 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 02 مئی 2014ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفتہ امسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 02 مئی 2014 ء بمطابق 02 ہجرت 1393 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اقتباسات کے حوالے سے میں گزشتہ خطبات میں معرفت الہی کے طریق محبت الہی کے طریق اور اللہ تعالیٰ کی ذات کی حقیقت کا بیان کرتا رہا ہوں۔آج آپ علیہ السلام کے اقتباسات پیش کرتے ہوئے آپ کے اس علمی خزانے میں سے چند حوالے پیش کروں گا جن میں آپ نے اللہ تعالیٰ کے قرب کی حقیقت، اس کی اہمیت، اس کو حاصل کرنے کے بعض طریق اور اپنی جماعت سے اس کے حصول کے لئے توقعات کا اظہار فرمایا ہے۔اس بات کی وضاحت فرماتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کو حاصل کرنا ہے تو اس بات کا ادراک ہونا ضروری ہے کہ اصل نیکی خدا تعالیٰ کی ذات میں ہے اور اس کی طرف سے ہی نیکی آتی ہے۔جو خدا تعالیٰ کی تعلیم کو اختیار کرنے سے ملتی ہے اور نتیجہ خدا تعالیٰ کے انعامات اور اس کا قرب حاصل ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ حقیقی طور پر بجز خدائے تعالیٰ کے اور کوئی نیک نہیں۔تمام اخلاق فاضلہ اور تمام نیکیاں اسی کے لئے مسلم ہیں۔پھر جس قدر کوئی اپنے نفس اور ارادت سے فانی ہو کر اس ذات خیر محض کا قرب حاصل کرتا ہے اسی قدر ا خلاق الہیہ اس کے نفس پر منعکس ہوتی ہیں۔۔( یعنی جس قدر کوئی اپنے نفس اور ارادت یعنی چاہت اور پسند سے بالا ہو کر اللہ تعالیٰ کے قرب کی کوشش کرتا ہے تو پھر اسے اس کا قرب حاصل ہو جاتا ہے اور اخلاق الہیہ جو ہیں اس کے نفس پر منعکس