خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 266 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 266

خطبات مسرور جلد 12 266 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 مئی 2014ء ہوتے ہیں۔جب انسان اپنے نفس سے بالا ہو ، انسان اپنی پسندوں کو چھوڑے، اللہ تعالیٰ میں ڈوبنے کی کوشش کرے تو پھر یہ نتیجہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کے جو اخلاق ہیں، اللہ تعالیٰ کے جو رنگ ہیں اس میں انسان رنگین ہونا شروع ہوتا ہے اور پھر جتنازیادہ اللہ تعالیٰ کے رنگ میں رنگین ہو گا اس کے احکامات پر عمل کرنے کی توفیق ملتی چلی جائے گی ، بڑھتی چلی جائے گی۔) فرمایا : پس بندہ کو جو جو خوبیاں اور کچی تہذیب حاصل ہوتی ہے وہ خدا ہی کے قرب سے حاصل ہوتی ہے اور ایسا ہی چاہئے تھا کیونکہ مخلوق فی ذاتہ کچھ چیز نہیں ہے۔سوا خلاق فاضلہ الہیہ کا انعکاس انہیں کے دلوں پر ہوتا ہے کہ جو لوگ قرآن شریف کا کامل اتباع اختیار کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے جو اخلاق فاضلہ ہیں اسی کے دل پر منعکس ہوتے ہیں، انہیں سے ان کا اظہار ہورہا ہوتا ہے اسی کی جو قرآن شریف کی مکمل اور کامل پیروی کرتے ہیں اتباع کرتے ہیں۔فرمایا اور تجربہ صیحہ بتلا سکتا ہے کہ جس مشرب صافی اور روحانی ذوق اور محبت کے بھرے ہوئے جوش سے اخلاق فاضلہ ان سے صادر ہوتے ہیں اس کی نظیر دنیا میں نہیں پائی جاتی اگر چہ منہ سے ہر یک شخص دعوی کر سکتا ہے اور لاف و گزاف کے طور پر ہریک کی زبان چل سکتی ہے مگر جو تجر بہ صحیحہ کا تنگ دروازہ ہے اس دروازہ سے سلامت نکلنے والے یہی لوگ ہیں اور دوسرے لوگ اگر کچھ اخلاق فاضلہ ظاہر کرتے بھی ہیں تو تکلف اور تصنع سے ظاہر کرتے ہیں ( جو اللہ تعالیٰ کے رنگ میں رنگین ہونے کی کوشش کرتا ہے قرآن شریف کے احکامات پر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہے اسی سے ہی ایسے اخلاق ظاہر ہوں گے۔دوسری دنیا میں یا اس کے علاوہ اگر کوئی اخلاق فاضلہ ظاہر کرتا ہے یا بظاہر اخلاق ظاہر ہورہے ہیں تو تکلف ہے تصنع ہے، بناوٹ ہے۔) فرمایا: اور اپنی آلودگیوں کو پوشیدہ رکھ کر اور اپنی بیماریوں کو چھپا کر اپنی جھوٹی تہذیب دکھلاتے ہیں۔ان کے اوپر جو گند ہیں، زنگ لگے ہوئے ہیں ان کو انہوں نے چھپایا ہوتا ہے، اخلاق اصل میں نہیں ہوتے وہ ظاہری لیپا پوتی ہوتی ہے، بناوٹ ہوتی ہے تصنع ہوتی ہے۔) فرمایا: ” اپنی جھوٹی تہذیب دکھلاتے ہیں سب کچھ انہوں نے چھپایا ہوتا ہے۔)۔۔۔او ادنی ادنیٰ امتحانوں میں ان کی قلعی کھل جاتی ہے۔جب امتحان آتا ہے، آزمایا جاتا ہے تو قلعی کھل جاتی ہے۔ذاتی مقد مے ہوتے ہیں تو اس وقت پتا لگ جاتا ہے کہ کتنے پانی میں ہیں۔جھوٹ اور سچ اور اخلاق سب ظاہر ہو جاتے ہیں۔یہ پتا لگ جاتا ہے کہ جھوٹ کتنا ہے۔بیج کو کتنا چھپایا جار ہا ہے یہ پتا لگ