خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 260 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 260

خطبات مسرور جلد 12 260 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 اپریل 2014ء میں عاجزی بہت تھی۔یہ عابد کہتے ہیں کہ اپنے علم و تجربے کے باوجود مجھ سے پریس اور میڈیا کے امور کے متعلق مشورہ لینے میں عار محسوس نہیں کرتے تھے۔نظام جماعت کی عزت کرتے اور خلافت سے والہانہ محبت رکھتے تھے۔زرتشت منیر صاحب امیر ناروے کہتے ہیں کہ جن دنوں آپ صدر خدام الاحمدیہ تھے۔خاکسار کو کراچی میں بطور قائد ضلع خدمت کی توفیق ملی۔انتہائی پر آشوب دور میں آپ نہایت کامیاب صدر تھے۔یہ چوراسی پچاسی چھیاسی کا دور تھا جب حالات بہت خراب ہو گئے تو سندھ اور بلوچستان کو جماعتی اور تنظیمی سطح پر جماعت کراچی کے سپرد کر دیا گیا تھا۔سندھ میں کسی جگہ بھی شہادت ہوتی تو محمود صاحب یا ان کا نمائندہ کراچی جماعت کے نمائندے سے قبل پہنچ جاتے۔مشکل حالات میں محمود صاحب بہت دلیری ، دانشمندی کے ساتھ بڑے مشکل امور کو بڑی محنت کے ساتھ سرانجام دیتے۔خلافت کے ساتھ عشق کی حد تک پیار تھا اور اس کی بڑی غیرت رکھتے تھے۔حفاظت کے سلسلے میں معمولی کوتاہی بھی برداشت نہیں کرتے تھے۔جب ہم ربوہ اجتماعات اور جلسوں پر جاتے تو آپ بہت ہی پیار و محبت کا سلوک فرماتے۔ملک اکرم صاحب جو یہاں مربی ہیں یہ کہتے ہیں کہ جامعہ میں طالب علمی کے دور میں خاکسار نے ان کے ہمراہ مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے تحت راولپنڈی کی مجلس کا دورہ کیا۔انہوں نے ہر مجلس میں مختلف تقریر کی۔آیات قرآنیہ، احادیث مبارکہ ارشادات حضرت مسیح موعود علیہ السلام ، خلفائے احمدیت کے کلمات پورے حوالوں کے ساتھ زبانی یاد کئے ہوئے تھے اور راولپنڈی کے ایک سینئر عہدے دار نے ایک جلسے کے بعد کہا تھا کہ زندگی میں یہ بچہ اعزاز پائے گا حالانکہ اس وقت محترم محمود صاحب جامعہ کے تیسرے چوتھے سال کے طالبعلم تھے۔اکرم صاحب کہتے ہیں کہ خاکسار کو آپ کی صدارت خدام الاحمدیہ کے دور میں ان کی عاملہ میں پانچ سال تک خدمت کی توفیق ملی۔نہایت باریک بین، زیرک، معاملہ فہم انسان تھے۔انکساری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔نہایت شفیق اور محبت کرنے والی ہستی تھی۔خود بھی محنتی تھے اور عاملہ سے بھی محنت کی توقع رکھتے تھے۔نہایت دلیر تھے۔کہتے ہیں کہ مجھے یاد ہے ایک دفعہ ایک شریر فطرت افسر ربوہ پر مسلط کر دیا گیا تو اس نے بعض نامناسب روکیں پیدا کر دیں۔محمود صاحب بحیثیت صدر مجلس خدام الاحمدیہ اس کے دفتر گئے اور ایسے رعب اور دبدبے سے بات کی کہ خوف سے اس نے ان رکاوٹوں کو دور کر دیا۔پھر یہ کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ کام کے دوران کبھی بھی انہیں جماعتی کاراپنے ذاتی کام یا فیملی کے لئے استعمال کرتے نہیں دیکھا۔ربوہ میں بالعموم پیدل یا سائیکل پر تقریبات