خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 261
خطبات مسرور جلد 12 261 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 اپریل 2014ء میں شرکت کرتے۔خدام الاحمدیہ کے اجتماع میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ غیر احمدی لوگوں سے احمدی نوجوان بہتر ہیں۔آپ نے کہا کہ یہ تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مقصد نہیں تھا کہ دوسروں کے ساتھ اپنی نسبت تلاش کرتے پھر دیا ان سے مقابلہ کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ فرمایا ہے کہ ہر احمدی کے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنی چاہئیں اور اس بات کو سامنے رکھنا چاہئے۔بنگلہ دیش کے ظفر احمد صاحب کہتے ہیں کہ میں نے بنگلہ دیش میں ان کے قیام کے دوران ان کی خدمت کی توفیق پائی ، جب یہ گزشتہ سال گئے ہوئے تھے۔محمود احمد صاحب بہت ہی سادہ طبیعت کے اور ملنسار انسان تھے۔نمازوں کے لئے بر وقت مسجد میں حاضر ہوتے تھے۔بیماری کے باوجود با قاعدگی سے تہجد پڑھتے تھے۔مہمان خانے میں ان کے قیام کے دوران ان کی ہدایت تھی کہ جو بھی ملنا چاہیں انہیں روکنا نہیں۔ذاتی خرچ پر ان کی مہمان نوازی کیا کرتے تھے۔ہر ایک کا خیال رکھتے تھے۔مریضوں کی عیادت کے لئے جایا کرتے تھے۔اس طرح کی خصوصیات تو بہت ساروں نے لکھی ہیں کہ جو پہلے دن سے تھے آخر تک وہ رہے۔مكرم عطاء المجیب راشد صاحب امام مسجد لندن لکھتے ہیں کہ نہایت مخلص، دیندار، خاکسار اور بے ریا انسان تھے۔کہتے ہیں 2004ء میں مجھے ایک ماہ کے لئے آسٹریلیا جانے کا موقع ملا تو اس دوران ان کی بے شمار خوبیوں سے آگاہی ہوئی۔سر فہرست ان کی خلافت سے محبت اور اطاعت تھی۔صبح کی سیر میں اکثر اس موضوع پر بات ہوتی۔جماعت کی ترقی اور جماعتی کاموں میں شمولیت اور وابستگی پر بات ہوتی۔اس بات کا بڑے درد سے ذکر کرتے کہ ابھی بہت کمزوریاں ہیں۔دوروں پر جاتے ہوئے مجھے ہر جماعت کے حوالے سے بتا دیتے کہ انہیں کن کن امور کی طرف توجہ دلانے کی ضرورت ہے۔خالد احمد صاحب جو ہمارے رشین ڈیسک کے انچارج ہیں۔انہوں نے مجھے لکھا کہ آپ سے مسند خلافت پر متمکن ہونے کے بعد محمود صاحب کی محبت نہایت درجہ عقیدت میں تبدیل ہوگئی اور ذکر سے ہی چہرے پر انکساری اور عاجزی اور خلوص پھوٹ جاتا تھا۔پھر یہ کہتے ہیں اور واقعی یہ صیح کہتے ہیں۔اس میں کوئی مبالغہ نہیں کہ فی زمانہ آپ کے مقام و مرتبہ کے مخلص، عاجز متقی ، درویش صفت ، ہمدرد، خلافت کے فدائی بہت کم ہوں گے۔ایک عزیز نے لکھا کہ وہ امیر صاحب کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔آسٹریلیا کے ہی کسی فرد جماعت کا فون آیا جو اپنی بات منوانا چاہتا تھا اور اس میں کچھ سختی کے الفاظ بھی استعمال کر رہا تھا کہ میں ٹھیک