خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 259
خطبات مسرور جلد 12 259 جماعت احمدیہ آسٹریلیا کی تعمیر تنظیم میں بنیاد کا کام کیا ہے۔خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 اپریل 2014ء ڈاکٹر سید حسن احمد کہتے ہیں کہ پیار کا ایک سمندر تھا جو میں نے آپ میں دیکھا اور محسوس کیا۔ہر احمدی چاہے چھوٹا ہو یا بڑا آپ کے گھر بلا تکلف چلا جاتا اور معمولی نوعیت کی باتیں ان سے بیان کرتا۔نو جوانوں کو خاص طور پر کام سپرد کرتے۔گویا ان کو لیڈر بننے کی ٹریننگ دے رہے ہیں۔ہر وقت جماعت افراد جماعت کے درد میں گھلتے رہتے تھے۔میلبرن سے ایک اسامہ احمد صاحب کہتے ہیں کہ مولانا محمود احمد صاحب کا وجود ہم آسٹریلیا کے احمدیوں کے لئے ایک شفیق باپ کی طرح تھا۔آپ آسٹریلیا کے تمام احمدیوں سے یکساں اور بلا امتیاز پیار اور شفقت اور محبت کا سلوک فرماتے تھے۔ہر چھوٹے بڑے کو اپنے حسن سلوک، اعلیٰ اخلاق اور نمونے سے اپنا گرویدہ بنالیا تھا۔آپ ہر موقع پر سڈنی آنے والے مہمانوں کا بہت خیال رکھتے۔ہر جلسے اور اجتماع کے موقع پر اپنے گھر سے باہر تشریف لاکر مہمانوں کا خود استقبال کرتے اور گلے لگاتے۔ہم ہمیشہ امیر صاحب کا مسکراتا ہوا چہرہ دیکھتے اور اس محبت اور سلوک سے سفر کی تھکان دور ہو جاتی۔بعض لوگوں نے ان کو بعض تکلیفیں بھی دیں لیکن جب تحقیق کی گئی تو با وجودلوگوں کی بدظنیوں کے کبھی براہ راست ان کا قصور نہیں نکلا۔ایک دو کیس ایسے تھے جن میں ان پر بدظنیاں کی گئیں اور شکایتیں کرنے والوں کا ہی اصل میں قصور ہوتا تھا۔ایک خاتون طاہرہ اطہر صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ چند دن پہلے جلسہ سالانہ آسٹریلیا ختم ہوا ہے۔مسجد میں رہائش پذیر مہمانوں کی مہمان نوازی کی خاص تاکید کرتے رہے کہ جلسے پر آنے والوں کا خیال رکھا جائے۔نمازوں کی ادائیگی کے لئے بڑی تاکید کی۔ہمارے ہاں پر یس کے انچارج عابد وحید ہیں جو میرے ساتھ دورے پر بھی تھے۔وہ کہتے ہیں کہ گزشتہ دورہ آسٹریلیا کے دوران محترم محمود بنگالی صاحب کو قریب سے دیکھنے اور جاننے کا موقع ملا۔باوجود یکہ کہ تمام دورے کے دوران ان کی طبیعت ناساز تھی۔چھوٹی سے چھوٹی بات کا خیال رکھتے اور بھر پور توجہ دیتے۔مثال کے طور پر ایک دفعہ رات کے کھانے میں ہمیں دوسرے روز بھی ایک ہی سبزی پیش کی گئی۔گو کہ ہمیں اس بات کا احساس بھی نہیں تھا لیکن بنگالی صاحب نے اس بات کو نوٹ کیا اور بیماری کے باوجود خود کچن میں جا کر ضیافت والوں سے وجہ معلوم کی کہ یہاں کوئی اور سبزی نہیں ملتی جو ایک ہی چیز کھلائی جا رہے ہو۔اس طرح مہمانوں کا ہر طرح سے خیال رکھتے تھے۔اس کے علاوہ ان کی طبیعت