خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 179
خطبات مسرور جلد 12 179 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 مارچ 2014 ء کے لئے ایک عالم وجد تھا۔اور ہر ایک طرف سے تحسین کی آواز تھی۔یہاں تک کہ ایک ہند و صاحب جوصدر نشین اس مجمع کے تھے ان کے منہ سے بھی بے اختیار نکل گیا کہ یہ مضمون تمام مضامین سے بالا رہا۔اور سول اینڈ ملٹری گزٹ جو لاہور سے انگریزی میں ایک اخبار نکلتا ہے اس نے بھی شہادت کے طور پر شائع کیا کہ یہ مضمون بالا رہا۔اور شائد ہیں ۲۰ کے قریب ایسے اردو اخبار بھی ہوں گے جنہوں نے یہی شہادت دی اور اس مجمع میں بجر بعض متعصب لوگوں کے تمام زبانوں پر یہی تھا کہ یہی مضمون فتحیاب ہوا اور آج تک صد با آدمی ایسے موجود ہیں جو یہی گواہی دے رہے ہیں۔غرض ہر ایک فرقہ کی شہادت اور نیز انگریزی اخباروں کی شہادت سے میری پیشگوئی پوری ہوگئی کہ مضمون بالا رہا۔یہ مقابلہ اس مقابلہ کی مانند تھا جو موسیٰ نبی کو ساحروں کے ساتھ کرنا پڑا تھا۔کیونکہ اس مجمع میں مختلف خیالات کے آدمیوں نے اپنے اپنے مذہب کے متعلق تقریریں سنائی تھیں جن میں سے بعض عیسائی تھے اور بعض سناتن دھرم کے ہندو اور بعض آریہ سماج کے ہندو اور بعض برہمو اور بعض سکھ اور بعض ہمارے مخالف مسلمان تھے اور سب نے اپنی اپنی لاٹھیوں کے خیالی سانپ بنائے تھے لیکن جبکہ خدا نے میرے ہاتھ سے اسلامی راستی کا عصا ایک پاک اور پر معارف تقریر کے پیرا یہ میں ان کے مقابل پر چھوڑا تو وہ اثر دہا بن کر سب کو نگل گیا اور آج تک قوم میں میری اس تقریر کا تعریف کے ساتھ چر چاہے جو میرے منہ سے نکلی تھی۔فالحمد للہ علی ذالک۔“ (حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 291-292) اور صرف اس زمانے میں نہیں بلکہ آج بھی پڑھنے والے یہ اعتراف کرتے ہیں۔اس لئے میں ہمیشہ کہا کرتا ہوں کہ اس کتاب کی بھی تشہیر ہونی چاہئے اور لٹریچر میں دینی چاہئے۔کئی غیر مجھے خط لکھتے ہیں کہ یہ کتاب پڑھنے سے اسلام کی خوبصورتی کا ہمیں پتہ لگا۔کئی نئے بیعت کرنے والوں سے جب میں پوچھتا ہوں، کس چیز نے متاثر کیا تو کئی لوگوں کے یہ جواب ہوتے ہیں کہ اسلامی اصول کی فلاسفی جو ہے اس کتاب نے ہمیں متاثر کیا اور ہمیں اسلام کی طرف رغبت اور توجہ پیدا ہوئی اور جماعت کی طرف توجہ پیدا ہوئی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ان پیشگوئیوں کو کہ میں تجھے نہیں چھوڑوں گا جب تک کہ پاک اور پلید میں فرق نہ کرلوں، اس زمانہ میں ظاہر کر دیا۔چنانچہ تم دیکھتے ہو کہ با وجود تمہاری سخت مخالفت اور مخالفانہ دعاؤں کے اُس نے مجھے نہیں چھوڑا۔اور ہر میدان میں وہ میرا حامی رہا۔ہر ایک پتھر جو میرے پر چلایا گیا اُس نے اپنے ہاتھوں پر